جمرود دھماکے میں ہلاکتیں اکیس ہو گئیں

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 دسمبر 2012 ,‭ 13:46 GMT 18:46 PST

خیبر ایجنسی میں گزشتہ کافی عرصے سے شدت پسندی کے واقعات جاری ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پیر کو ہونے والے کار بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد اکیس ہو گئی ہے اور اڑسٹھ افراد زخمی ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں سے گیارہ کا تعلق کوکی خیل قبائل، تین کا ذخہ خیل، دو کا مہمند سے ہے جبکہ چھ افغان باشندے شامل ہیں۔

مقامی پولیٹکل انتظامیہ کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ خیبر ایجنسی میں دوسرے روز بھی سوگ کی فضا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیٹکل انتظامیہ نے تحقیقات شروع کی ہیں لیکن ابھی تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق دھماکہ فوجی مارکیٹ کی عمارت کے سامنے ہوا اور قریب ہی سکاؤٹس فورس کا قلعہ بھی ہے۔ فوجی مارکیٹ کے سامنے کوکی خیل قبائل کا بس سٹینڈ ہے اور کوکی خیل خیبر ایجنسی میں واحد قبیلہ ہے جن کا کسی بھی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے مزید بتایا ’تاہم خیر ایجنسی میں موجود بعض شدت پسند تنظیمیں کوکی خیل قبائل کو اپنا مخالف تصور کرتی ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ خیبر ایجنسی میں اکثر اوقات شدت پسندوں نے ان قبائل کو نشانہ بنایا ہے جو شدت پسند تنظیموں کے خلاف ہیں یا کسی دوسرے تنظیم کے خلاف ان کا ساتھ نہیں دے رہے۔ ماضی میں لشکر اسلام نے بُہت سے ایسے لوگوں کو نشانہ بنایا ہے جنہوں نے صرف ان کی تنظیم سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا‘۔

اس سے پہلے تحصیل جمرود میں ایک مسافر وین میں بم دھماکے کے حوالے سے معلوم ہوا تھا کہ خیبر ایجنسی میں ایک شدت پسند تنظیم نے ذخہ خیل قبائل کے بس سٹینڈ میں اس بنیاد پر دھماکہ کیا تھا کہ ذخہ خیل قبائل ان کے خلاف تھے۔ جس میں چھ سکیورٹی اہلکاروں سمیت تیس افراد ہلاک اور ساٹھ زخمی ہو گئے تھے۔

اس وقت مقامی انتظامیہ نے بھی کہا تھا کہ جس بس سٹینڈ میں یہ دھماکہ ہوا تھا وہ ذخہ خیل قبیلے کا سٹینڈ تھا۔

اہلکار نے بتایا تھا کہ ذخہ خیل قبائل نے کچھ عرصہ پہلے شدت پسندوں کے خلاف ایک امن کیمٹی اور لشکر بنایا ہے جو تِیرہ کے علاقے میں شدت پسند تنظمیوں کے خلاف لڑنے میں مصروف ہے۔

تحریکِ طالبان پاکستان نے ذخہ خیل بس سٹینڈ میں ہونے والے واقعے سے لا تعلقی کا اظہار کیا تھا۔

تاہم گزشتہ روز فوجی مارکیٹ کے سامنے ہونے والے دھماکے پر تحریک طالبان نے خاموشی اختیار کی ہے انہوں نے نہ اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور نہ ہی تردید کی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔