سوات : ملالہ کالج، حکومت کے لیے درد سر

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 دسمبر 2012 ,‭ 17:59 GMT 22:59 PST

کالج انتظامیہ کے مطابق احتجاج کے باعث کالج کو دو دن پہلے بند کردیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ خیر پختونخواہ کی حکومت کی جانب سے سیدو شریف گرلز کالج کو ملالہ یوسف زئی کے نام سے منسوب کرنے کا مقصد بظاہر ملالہ کی تعلیمی خدمات کا اعتراف کرنا تھا لیکن شاید حکام کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ اقدام ان کے لیے سر کا درد بن سکتا ہے۔

اس سال اکتوبر میں ملالہ یوسف زئی پر سوات میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے چند دنوں بعد خیبر پختونخواہ کے وزیرِاعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے پشاور میں ایک اجلاس سے خطاب کیا تھا جس میں سیدوشریف گرلز کالج سوات کا نام تبدیل کر کے ملالہ کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

کالج انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی طور پر نام کی تبدیلی پر طالبات کی طرف سے کوئی خاص ردِعمل ظاہر نہیں کیا گیا تھا لیکن جب کالج کی عمارت پر ملالہ یوسف زئی کی ایک بڑی تصویر نصب کی گئی تو اس کے بعد طالبات سراپا احتجاج بن گئیں۔

اہلکار کے مطابق اس احتجاج میں ہاسٹل میں مقیم طالبات پیش پیش رہیں کیونکہ ان کا موقف ہے کہ اگر دہشت گرد کالج پر حملہ کرتے ہیں تو اس صورت میں وہ نشانہ بنیں گی۔

طالبات کا مطالبہ

طالبات کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ اگر حکومت نے ملالہ کی خدمات کا اعتراف کرنا ہی ہے تو اس کےلیے نیا کالج تعمیر کیا جائے، ان کے کالج کا نام کیوں تبدیل کیا جا رہا ہے؟

طالبات کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ اگر حکومت نے ملالہ کی خدمات کا اعتراف کرنا ہی ہے تو اس کے لیے نیا کالج تعمیر کیا جائے، ان کے کالج کا نام کیوں تبدیل کیا جا رہا ہے؟

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ کسی نامعلوم شخص نے کالج کو فون بھی کیا تھا جس میں کالج پر حملے کی دھمکی دی گئی تھی تاہم سرکاری طور پر اس اطلاع کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

کالج انتظامیہ کے مطابق احتجاج کے باعث کالج کو دو دن پہلے بند کر دیا گیا تھا جبکہ سردیوں کی چھٹیاں بھی وقت سے پہلے دے دی گئی ہیں۔

ادھر صوبائی حکومت نے سیدو شریف کالج کا نام تبدیل کرنے سے قبل طالبات، ان کے والدین ، اساتذہ یا کالج انتظامیہ کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔

خیبر پختونخوا کے محکمۂ تعلیم کے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے یہ اعلان کرنے سے قبل کسی کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی حکومت نے کئی تعلیمی اداروں کے نام تبدیل کر کے ان کو مختلف شعبوں میں ملک وقوم کے لیے خدمات سرانجام دینے والے افراد کے نام سے منسوب کیا ہے۔

خطرے کو دعوت

بعض افراد اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ آجکل کے حالات میں سوات میں ملالہ یوسف زئی کے نام سے کسی عمارت کو منسوب کرنا ایک قسم کو خطرے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

ان کے مطابق اس حوالے سے حکومت کی جانب سے کوئی خاص طریقۂ کار مقرر نہیں بلکہ جب بھی کوئی شخص ملک و قوم کے لیے کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دیتا ہے تو حکومت ان کے نام سے کوئی بھی عمارت منسوب کر سکتی ہے اور اس کے لیے کسی سے پیشگی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

دوسری جانب بعض افراد اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ آج کل کے حالات میں سوات میں ملالہ یوسف زئی کے نام سے کسی عمارت کو منسوب کرنا ایک قسم کو خطرے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملالہ پر حملے کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا اور علاقے میں شدت پسندی بھی مکمل طورپر ختم نہیں ہوئی ہے لہٰذا ایسی صورتحال میں حکومت کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے اور انہیں دیگر افراد کی زندگیوں کا بھی خیال کرنا چاہیے۔

مصبرین کا سوال ہے کہ حکومت خواہ مخوا ایسا کوئی اقدام کیوں کرے جس سے سوات جیسے حساس علاقے میں شدت پسند پھر سے کوئی فائدہ اٹھا سکیں۔

سوات میں طالبان کے عروج کے دور میں سینکڑوں تعلیمی اداروں کو شدت پسندوں نے حملوں میں نشانہ بنایا تھا۔

طالبان کا موقف تھا کہ وہ سکولوں پر اس لیے حملے کر رہے ہیں کیونکہ زیادہ تر تعلیمی اداروں میں سکیورٹی فورسز نے پناہ لے رکھی ہے جہاں سے ان پر حملے ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔