آخر یہ تو سب غیر ملکی سازشیں ہیں

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 دسمبر 2012 ,‭ 18:06 GMT 23:06 PST

پشاور کے ایک محلے میں رہنے والی صغراں بی بی گھر میں صفائی کر رہی تھیں جب ہم ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ میرے ساتھ پولیو ٹیم کی ایک رکن مریم تھیں جن سے صغراں کی جان پہچان تھی۔

صغراں بی بی محلے کے امام مسجد کی اہلیہ ہیں۔ ہمیں دیکھ کر انہوں نے اپنا جھاڑو سنبھالا اور فوراً ہمارے لیے کھجور اور گلاس میں آبِ زم زم لے آئیں۔ مریم نے بتایا کہ صغراں اس بار حج کر کے آئی ہیں۔

پشتون مہمان نوازی ان کی مسکراہٹ اور میزبانی سے ظاہر تھی، لیکن وہ مسکرا کر ہی بولیں کہ’پولیو کے قطروں کی وجہ سے نہ صرف مسلمان بچے جلد بالغ ہو جاتے ہیں بلکہ قطرے پینے والے بچوں سے قبرستان بھرے پڑے ہیں۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ ان کو کیسےمعلوم ہے، انہوں نے کہا کہ یہ تو سب جانتے ہیں‘۔

صغراں بی بی جیسی مہمان نوازی کا مظاہرہ اسی علاقے میں رہنے والے دودھ فروش نور داد نے بھی کیا۔ چائے اور بسکٹ کا اصرار کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پولیو ویکسین کے بارے میں تحقیق کی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ قطرے بچوں کے ڈی این اے کو تبدیل کر کے انہیں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیتے ہیں۔ بلکہ نور داد کہتے ہیں انہیں باقی ویکیسنز پر کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے بچوں کو ڈسپینسری سے جا کر باقاعدگی سے ٹیکے لگواتے ہیں۔

"آپ مجھے بنیاد پرست سمجھیں گی مگر آپ پولیس کی طرح لوگوں کے ساتھ زبردستی کیوں کرتے ہیں؟"

پشاور کے رہائشی نورداد

انہوں نے مسکرا کر مجھ سے معنی خیز انداز میں کہا ’آپ مجھے بنیاد پرست سمجھیں گی مگر آپ پولیس کی طرح لوگوں کے ساتھ زبردستی کیوں کرتے ہیں؟‘

سوال یہ ہے کہ آخر پولیو کے قطرے پینے سے انکار میں ایسی شدت کیوں؟ پہلے صرف قطرے پینے سے انکار کیا جاتا تھا اور اب تو تشدد کی انتہا ہے کہ بندوق اٹھا کر گولیاں ماری جار ہی ہیں؟

پولیو کی مہم سے جو بھی منسلک ہے، چاہے وہ اہلکار ہوں یا کارکن یا صرف رضا کار، وہ کہتے ہیں کہ پہلے بھی پولیو کی ویکسین کو مسلمانوں کے خلاف سازش قرار دیا جاتا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں میں یہ غلط تاثر اس انکشاف کے بعد زیادہ پھیلا کہ اسامہ بن لادن کو پکڑنے کے لیے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پولیو کی جعلی مہم چلانے کو کہا تھا۔

پاکستان میں سازشی نظریہ یا ’کنسپیریسی تھیوری‘ کے پھیلانے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ملالہ یوسفزئی کے معاملے میں بھی بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اسے ربڑ کی گولی سے مارا گیا تھا اور وہ امریکی ایجنٹ ہے۔ جب بھی بلوچستان یا کراچی میں تشدد کے واقعات ہوتے ہیں تو غیر ملکی عناصر کو ذمے دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ بات حکومتی وزرا بھی کہتے ہیں کہ آنے والے چند دنوں میں ملک میں جاری کارروائیوں میں ملوث بیرونی ہاتھ کو بے نقاب کیا جائے گا مگر وہ دن کبھی نہیں آتا۔

پولیو کے قطرے پلانے والوں پر پتھراؤ

پشاور میں ایک شخص نے پولیو ٹیم کو کہا کہ ’آپ چار بار ہمارے گھر آئے ہیں، اور ہم نے منع کیا ہے، آپ ہمارے پیچھے کیوں پڑے ہیں؟‘ اس کا جواب تو شاہد یہ ہونا چاہیے کہ ’یہ ہمارا کام ہے‘ لیکن کیونکہ اس گھر سے ٹیموں پر پتھراؤ بھی ہوتا رہا ہے، لیڈی ہیلتھ ورکر چپ ہوگئیں۔

پولیو کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستانی بچوں میں دیگر جان لیوا بیماریاں بھی پائی جاتی ہیں تو مغرب اور حکومتِ پاکستان صرف اسی پر زور کیوں دے رہے ہیں؟ پشاور میں ایک شخص نے پولیو ٹیم کو کہا کہ ’آپ چار بار ہمارے گھر آئے ہیں، اور ہم نے منع کیا ہے، آپ ہمارے پیچھے کیوں پڑے ہیں؟‘ جواب تو شاید یہ ہونا چاہیے کہ ’یہ ہمارا کام ہے‘ لیکن کیونکہ اس گھر سے ٹیموں پر پتھراؤ بھی ہوتا رہا ہے، لیڈی ہیلتھ ورکر چپ ہوگئیں۔

گذشتہ سال جب یہ بات منظرِ عام پر آئی کہ دنیا میں پولیو کے سب سے زیادہ کیس پاکستان میں پائے گئے ہیں، تو قابو پانے کے لیے حکومت اور مالی امداد فراہم کرنے والی غیر ملکی ایجنسیوں نے اس پر ہنگامی بنیاد پر لائحہِ عمل تیار کیا۔ دارالحکومت میں پولیو سیل قائم کیا گیا۔ ٹیلی وژن اور ریڈیو پر اشتہارات نشر کیے گیے۔ صدر آصف علی زرداری کی بیٹی آصفہ کو پولیو مہم کی سفیر مقرر کیا گیا۔ اور مہم کو ہنگامی بنیادوں پر چلایا گیا۔

پولیو کی مہم سے جو بھی منسلک ہے، چاہے وہ اہلکار ہوں یا کارکن یا صرف رضا کار، وہ کہتے ہیں کہ پہلے بھی پولیو کی ویکسین کو مسلمانوں کے خلاف سازش قرار دیا جاتا رہا ہے۔

اس سال اب تک چار قومی اور چار علاقائی مہمات چلائی گئیں، جن کے علاوہ چھوٹے پیمانے پر آگاہی کی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ خاص کر صوبہ خیبر پختونخوا میں مقامی انتظامیہ نے کئی ماہ تک مذاکرات کے بعد علما کو مہم میں شریک کیا مگر اس کے اثرات سے علما بھی محفوظ نہیں ہیں کیونکہ ایک عالم دین کو تو پولیو کے خلاف مہم کے حق میں فتویٰ دینے کے بعد دھمکیاں بھی موصول ہوئیں۔

ایک طرف ایسا لگتا ہے کہ اس سال کیونکہ پولیو کے کیسز میں ستر فیصد کمی آئی ہے اس لیے مہم کامیاب ہوئی ہے۔ تاہم اگر ایک طرف پولیو پر قابو پایا جا رہا ہے تو دوسری جانب مہم کے خلاف شدید ردِ عمل پر کیسے قابو پایا جائے گا؟

عالمی ادارۂ صحت کے پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر الیس دری کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجوہات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ’ہم چاہتے ہیں کہ مذہبی رہنما ہی نہیں بلکہ عوام، پولیو کے خلاف مہم کے طریقہ کار کو بدلیں۔ عوام کو اسے اپنانا ہو گا۔ اسی طرح اس قسم کے واقعات رک سکیں گے‘۔

آخر یہ تو سب غیر ملکی سازشیں ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔