’قرآن کی بے حرمتی‘: ہجوم نے لاش کو آگ لگا دی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 دسمبر 2012 ,‭ 20:49 GMT 01:49 PST

پولیس نے پیش امام کی مدعیت میں نامعلوم مقتول کے خلاف قرآن کی بےحرمتی جبکہ پولیس نے پانچ سو ملزمان کے خلاف تھانے پر حملے اور قتل کا مقدمے درج کیا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے دادو میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک ہجوم نے قرآن کی بے حرمتی کے مبینہ الزام میں ایک شخص کو ہلاک کرنے کے بعد اس کی لاش پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔

ایس ایس پی دادو عثمان غنی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ ضلع دادو کے علاقے سیتا ولیج میں پیش آیا۔ ان کے بقول جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو ساڑھے تین بجے کے قریب لوگوں نے مسجد کے پیش امام کو بتایا کہ ایک شخص نے مبینہ طور پر مسجد میں قرآن کی بے حرمتی کی ہے اور آگ لگائی ہے۔

اس واقعے کے بعد لوگوں نے ملزم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔

ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ پولیس کے مطابق فجر کے وقت سورج کی روشنی کے ساتھ ہی یہ خبر پورے علاقے میں پھیل گئی اور ایک بڑے ہجوم نے تھانے پر حملہ کردیا اور پولیس سے اسلحہ چھین لیا۔

ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ ملزم کو لاک اپ سے نکال کر اسے پتھر اور اینٹیں مارمار کر ہلاک کر دیا گیا۔

ایس ایس پی کے مطابق ہجوم نے ملزم کی لاش کو ایک کلومیٹر دور ایک چوک تک گھسیٹا جہاں لاش پر پٹرول چھڑک کر اس کو آگ لگا دی گئی۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ اندازاً اس کی عمر چالیس سے بیالیس سال ہوگی اور وہ سرائیکی میں بات کر رہا تھا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ ملزم کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا۔

مقامی پولیس کی بے بسی کے بعد ایس ایس پی دادو کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچی جس کے بعد تیس کے قریب افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایس ایس پی کے مطابق کچھ ملزمان کی شناخت بھی کی گئی ہے۔

سیتا ولیج تھانے کے ایس ایچ او سمیت چھ پولیس اہلکاروں کو معطل کرکے حراست میں لیا گیا ہے اور ان کے خلاف غفلت برتنے کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔

دوسری جانب پولیس نے پیش امام کی مدعیت میں نامعلوم مقتول کے خلاف قرآن کی بےحرمتی جبکہ پانچ سو ملزمان کے خلاف تھانے پر حملے اور قتل کا مقدمہ درج کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔