بشیر بلور نے ہمیشہ طالبان کی مخالفت کی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 23 دسمبر 2012 ,‭ 19:24 GMT 00:24 PST
بشیر احمد بلور

خود کش حملے سے قبل بشیر احمد بلور کی آخری تصویر۔

صوبہ خیبر پختون خوا کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور کے ساتھ بھی بالآخر وہی کچھ ہوگیا جس کا بہت پہلے سے خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔

وہ جس طرح ہر فورم اور میڈیا میں کھل کر طالبان کی مخالفت کرتے تھے اور ان کو ’ملک دشمن اور دہشت گردوں‘ کے نام سے یاد کرتے تھےاس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ یقیناً شدت پسندوں کے ہِٹ لِسٹ پر ہوں گے۔

بشیر احمد بلور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی عمر انہتر برس بتائی جاتی ہے۔ انہوں نے انیس سو ستر میں عوامی نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست کا آغاز کیا۔

وہ پہلی مرتبہ انیس سو نوے میں پشاور کے حلقہ پی ایف ون سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ انیس سو نوے سے دو ہزار آٹھ تک مسلسل پانچ مرتبہ اپنے حلقے سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے ہیں۔

دو ہزار دو میں جب مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد ایم ایم اے نے پشاور سمیت پورے صوبہ بھر میں انتخابات میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی جس میں اے این پی کے کئی اہم رہنما ہارے گئے تھے، اس الیکشن میں بھی بشیر احمد بلور اپنی نشست جیتنے میں کامیاب رہے۔

طالبان حملوں کی مذمت

گزشتہ تین سالوں سے ان دونوں وزراء نے اس بات کو اپنی اولین ذمہ داری بنا رکھا تھا کہ پشاور یا صوبے کے کسی دوسرے شہر میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آتا تو یہ دونوں وزراء منٹوں میں لپک کر جائے وقوعہ پر پہنچ جاتے اور ذرائع ابلاغ سے بات کرنے میں عوام کو حوصلہ دینے کی بات کرتے اور طالبان حملوں کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے تھے۔

بشیر احمد بلور تین مرتبہ صوبائی وزیر کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ ان کے پاس سینئر وزیر، لوکل باڈیز اور کمیونیکشن کے قلمدان رہے ہیں۔ انہوں نے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی اور وہ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ممبر بھی تھے ۔

سوات میں دو ہزار نو میں جب طالبان اور حکومت کے مابین آخری امن معاہدہ ٹوٹ گیا تو عوامی نیشنل پارٹی نے ہر فورم پر کھل کر طالبان کی مخالفت شروع کردی۔ اس مخالفت میں بشیر احمد بلور اور صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین سب سے زیادہ پیش پیش رہے۔

گزشتہ تین سالوں سے ان دونوں وزراء نے اس بات کو اپنی اولین ذمہ داری بنا رکھا تھا کہ پشاور یا صوبے کے کسی دوسرے شہر میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آتا تو یہ دونوں وزراء منٹوں میں لپک کر جائے وقوعہ پر پہنچ جاتے اور ذرائع ابلاغ سے بات کرنے میں عوام کو حوصلہ دینے کی بات کرتے اور طالبان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے تھے۔

چند دن پہلے جب رات کے وقت شدت پسندوں نے پشاور کے ہوائی اڈے پر حملہ کیا تو ابھی علاقے میں فائرنگ جاری تھی کہ بشیر احمد بلور اچانک جائے وقوعہ کے قریب پہنچ گئے۔

ان دونوں وزراء کی اس دلیری کا تمام سیاسی جماعتیں بھی اعتراف کرتی رہی ہیں۔ بشیر احمد بلور پر اس سے پہلے بھی دو مرتبہ قاتلانہ حملے ہوچکے ہیں جبکہ صوبائی وزیر میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے میاں راشد حسین بھی طالبان حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

بلور خاندان

بشیر احمد بلور کا شمار عوامی نیشنل پارٹی کی سینیئر رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ خیبر پختون خوا میں بلور خاندان ایک مضبوط کاروباری اور سیاسی خاندان کے طورپر جانا جاتا ہے۔ اس خاندان کے تقریباً تمام افراد اے این پی سے منسلک ہیں۔ مقتول بشیر احمد بلور کے تین بھائی ہیں جن میں دو بھائیوں کا شمار عوامی نیشنل پارٹی کے اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ ان کے بڑے بھائی غلام احمد بلور وفاقی وزیر ریلوئے ہیں جبکہ الیاس بلور سینیٹر ہیں۔ ان کے ایک بھائی عزیز احمد بلور کے بارے میں بتایا جاتا ہے وہ سول سروسز میں رہ چکے ہیں۔

کئی دفعہ اس طرح بھی ہوا ہے کہ بشیر احمد بلور یا میاں افتخار حسین کسی دھماکے والے جگہ پر پہنچتے تو صحافی وہاں سے ہٹ جاتے تھے کیونکہ انہیں خوف ہوتا تھا کہ یہ دونوں تو طالبان کے ہٹ لسٹ پر ہیں کہیں ان کے پیچھے کوئی خودکش حملہ آور ہی نہ ہو۔ لیکن تمام تر خطرات کے باوجود یہ دونوں وزراء مسلسل طالبان کی مخالفت کرتے رہے۔

بشیر احمد بلور کا شمار عوامی نیشنل پارٹی کی سینیئر رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ خیبر پختون خوا میں بلور خاندان ایک مضبوط کاروباری اور سیاسی خاندان کے طورپر جانا جاتا ہے۔ اس خاندان کے تقریباً تمام افراد اے این پی سے منسلک ہیں۔ مقتول بشیر احمد بلور کے تین بھائی ہیں جن میں دو بھائیوں کا شمار عوامی نیشنل پارٹی کے اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ ان کے بڑے بھائی غلام احمد بلور وفاقی وزیر برائے ریلوے ہیں جبکہ الیاس بلور سینیٹر ہیں۔ ان کے ایک بھائی عزیز احمد بلور کے بارے میں بتایا جاتا ہے وہ سول سروس میں رہ چکے ہیں۔

مرحوم کے دو بیٹے ہارون بلور اور عثمان بلور بھی سیاست میں سرگرم ہیں۔ ہارون بلور ٹاؤن ون پشاور کے ناظم جبکہ عثمان بلور خیبر پختون خوا چیمبر آف کامرس کے صدر رہ چکے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ ضلع پشاور کی سطح پر اے این پی کو منظّم کرنے میں بلور خاندان کا اہم کردار رہا ہے جس میں بالخصوص بشیر احمد بلور پیش پیش رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پارٹی میں کئی مواقعوں پر اختلافات بھی پیدا ہوئے لیکن اس خاندان نے اے این پی سے اپنی مخلصی اور تعلق پر کوئی آنچ نہیں آنے دی۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔