’پرانے سیاسی کھلاڑی مگر پیپلز پارٹی کے لیے اجنبی‘

آخری وقت اشاعت:  پير 24 دسمبر 2012 ,‭ 03:25 GMT 08:25 PST

پی ایم ایل(فنکشنل) سے تعلق رکھنے والے مخدوم احمد محمود کو پنجاب کا نیا گورنر نامزد کیا گیا ہے

صدر آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کے رہنما اور اپنے وکیل سردار لطیف کھوسہ کو گورنر پنجاب کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ ایسی سیاسی شخصیت کو صوبے کا گورنر نامزد کیا ہے جو پیپلز پارٹی کے لیے اجنبی ہیں۔

تاہم نامزد گورنر مخدوم احمد محمود کا کہنا ہے کہ وہ آصف علی زرداری کو مایوس نہیں کریں گے اور صدر زرداری جب بھی گورنر ہاؤس آئیں گے تو انہیں یہی محسوس ہوگا کہ ’یہ ان کا گورنر ہاؤس ہے‘۔

مخدوم سید احمد محمود پچیس دسمبر کو گورنر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

سردار لطیف کھوسہ کی تبدیلی کا فیصلہ صدر آصف زرداری کی چند روز قبل مخدوم احمد محمود سے ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا۔ یہ ملاقات سابق وزیر اعظم سید یوسف رضاگیلانی نے کروائی تھی۔

سردار لطیف کھوسہ نے سنیچر کے روز کراچی میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور اپنا استعفیٰ پیش کیا۔

مخدوم سید احمد محمود کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے بااثر سیاسی گھرانے سے ہے اور وہ بارہ ستمبر انیس اکسٹھ کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مخدوم زادہ سید حسن محمود ریاست بہاولپور کے وزیراعلیٰ تھے۔

پنجاب کے لیے نئے نامزد گورنر مخدوم احمد محمود سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر صبغت اللہ شاہ راشدی کے کزن ہیں۔ مخدوم احمد محمود کی والدہ سابق پیر پگارہ کی سگی بہن تھیں جبکہ سید یوسف رضا گیلانی کی والدہ اور پیر صبغت اللہ راشدی کی والدہ سگی بہنیں ہیں۔ جبکہ تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نئے نامزد گورنر پنجاب کے بہنوئی ہیں۔

اس کے علاوہ مسلم لیگ قاف کی رکن پنجاب اسمبلی بشریٰ گردیزی بھی نامزد گورنر پنجاب کی قریبی رشتہ دار ہیں۔

نامزد گورنر کے بیٹے

نامزد گورنر پنجاب کے ایک بیٹے مخدوم مصطفیٰ محمود قومی اسمبلی جبکہ دوسرے بیٹے مخدوم مرتضی محمود پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں

مخدوم سید احمد محمود نے گورنر کے عہدے پر اپنی نامزدگی کے بعد مسلم لیگ فنکشنل کے صوبائی صدارت سے مستعفیٰ ہوگئے ہیں۔

پنجاب کے نامزد گورنر ماضی میں تین مرتبہ قومی اسمبلی اور تین بار پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کے علاوہ ضلعی ناظم بھی رہے۔

مخدوم احمد محمود صوبہ پنجاب کے چھٹے گورنر ہیں جن کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔ انہوں نے تحریکِ بحالیِ صوبہ بہاولپور میں بھی بھر پور حصہ لیا تھا۔

انیس سو پچاسی میں مخدوم احمد محمود پہلی بار پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انیس سو اٹھاسی کے انتخابات میں وہ دوبارہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور اس وقت کے وزیراعلیٰ نواز شریف کی کابینہ کا رکن بن گئے۔

سنہ انیس سو نوے سے سنہ انیس سو ننانوے تک مخدوم احمد محمود مسلسل تین مرتبہ رکن قومی اسمبلی چنے گئے اور نواز شریف کی کابینہ میں انہیں وزیر مملکت کا عہدہ بھی ملا۔

سنہ دوہزار ایک سے سنہ دو ہزار پانچ تک مخدوم احمد محمود رحیم یار خان کے ضلعی ناظم بھی رہیں۔

مخدوم احمد محمود نے سنہ دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں رکن پنجاب اسمبلی بنے اور صوبائی اسمبلی کی پیلک اکاؤنٹس کمیٹی کے رکن رہے۔

نامزد گورنر پنجاب کے ایک بیٹے مخدوم مصطفیٰ محمود قومی اسمبلی جبکہ دوسرے بیٹے مخدوم مرتضی محمود پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔