طاہر القادری کی واپسی: جواب کم سوال زیادہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 26 دسمبر 2012 ,‭ 20:05 GMT 01:05 PST

لاہور میں کامیاب جلسے کی بنیادی وجہ ڈاکٹر طاہر القادری کی تنظیم مہناج القرآن ہے

تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے لاہور میں مینار پاکستان پر ایک بڑا جلسہ کر کے لوگوں کو اضطراب کا شکار کردیا ہے اور یہی اضطراب کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے اتوار کو جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ نظام انتخاب کو آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تابع کرنا چاہتے ہیں اور ’صالح‘ قیادت کی خاطر ملک میں انتخابات کرانے کے لیے نوے دن کی مہلت سے زیادہ وقت بھی لگ جائے تو یہ اقدام غیر آئینی نہیں ہے۔

سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کو پانچ برس کینیڈا میں گزرنے کے بعد اچانک کیا سوجھی کہ انہوں نے پاکستان آ کر ایک جلسے میں نہ صرف انتخابی اصلاحات کرنے کا مطالبہ کر دیا بلکہ نگران حکومت میں عدلیہ اور فوج کو شامل کرنے کی تجویز بھی پیش کردی؟

پاکستان میں انتخابات سے پہلے اصلاحات یا احتساب کے نعرے یا مطالبات کوئی نئی بات نہیں۔ سابق فوجی صدر جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی پہلے احتساب اور پھر انتخاب کا نعرہ لگایا گیا۔

یہ نکتہ غور طلب ہے کہ جب سیاسی جماعتیں نئے انتخابات میں حصہ لینے کی تیاریوں میں مصروف ہیں اس وقت سیاست نہیں ریاست بچاؤ کا نعرہ کیوں لگایا گیا ہے۔ کہاں سے اور کس نے ڈاکٹر طاہر القادری کو یہ ذمہ داری سونپی یا یہ ان کی اپنی کوئی خواہش ہے۔ یہ راز ابھی راز ہی ہے۔

پاکستان ٹو ڈے کے چیف ایڈیٹر عارف نظامی کا کہنا ہے کہ اتنے عرصہ ملک سے باہر رہنا اور انتخابات سے پہلے منظم طریقے سے پاکستان آنا اور اخراجات کرنا بغیر کسی مخصوص ایجنڈے کے نہیں ہو سکتا۔

ڈاکٹر طاہر القادری کی اپنی سیاسی جماعت پاکستان عوامی تحریک ہے لیکن ان کا جلسہ تحریکِ منہاجِ القرآن کے زیر انتظام کیا گیا۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ لاہور میں کامیاب جلسے کی بنیادی وجہ ڈاکٹر طاہر القادری کی تنظیم منہاج القرآن ہے جو ایک منظم تنظیم ہے اور منظم طریقہ سے اس کا انتظام کیا گیا ۔

"مذہب کے نام لوگوں کو اکٹھا کرنا آسان کام ہے۔"

پروفیسر رسول بخش رئیس

سیاسیات کے پروفیسر رسول بخش رئیس کے مطابق مذہب کے نام لوگوں کو اکٹھا کرنا آسان کام ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کے جلسے کے اخراجات کے بارے میں مسلم لیگ ن نے انگلی اٹھائی ہے کہ جلسے کی تشہیر اور اس کے انتظامات کے لیے کثیر رقم کہاں سے آئی ہے؟

ایک طرف تو ڈاکٹر طاہراالقادری انتخابی اصلاحات یا صالح قیادت کے لیے نگران حکومت کو نوے دنوں یعنی تین ماہ سے زیادہ مہلت دینے کی بات کررہے ہیں جبکہ دوسری جانب انہوں نے حکومت کو انتخابی اصلاحات کے لیے صرف تین ہفتوں یعنی چودہ جنوری کا وقت دیا ہے۔

سیاسی تجزیہ نگار نے تین ہفتوں کی مہلت کو غیر سنجیدہ رویہ قرار دیاہے ۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے انتخابی اصلاحات نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد میں دوبارہ ایک اجتماع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کیا تحریک منہاج القرآن کے سربراہ دوبارہ بڑا اجتماع کرنے میں کامیاب ہوں گے اس بارے میں سیاسی تجزیہ نگار کوئی زیادہ پرامید نہیں ہیں۔

تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کے بقول ڈاکٹر طاہر القادری کے لیے یہ کوئی آسان کام نہیں ہوگا کہ وہ اسلام آباد کی طرف سے مارچ کریں اور ان کے ہمراہ لوگوں کی بڑی تعداد ہو۔

گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود نے بھی ڈاکٹر طاہر القادری کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے عقیدت مندوں کو کسی بڑے امتحان میں نہ ڈالیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔