’کسی آمر کو اقتدار پر قبضہ کرنے نہیں دیں گے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 27 دسمبر 2012 ,‭ 14:55 GMT 19:55 PST

بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر میں پاکستان کی عدلیہ سے مختلف سوالات کیے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی والدہ اور ملک کی سابق وزیراعظم بینظیر کی پانچویں برسی کے موقع پر ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ایک طرف دہشتگرد ہیں اور دوسری طرف ’ہم‘ ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان پیپلز پارٹی دہشت گردی کے سامنے ایک دیوار ہے۔

گڑھی خدا بخش میں بینظیر بھٹو کے برسی کے موقع پر اپنے پہلے عوامی خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں جمہوریت کی بقاء کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا ’یہاں پر دو قسم کی قوتیں ہیں ایک طرف وہ جو جمہوریت پسند ہیں اور دوسری طرف وہ ہیں جنہوں نے آمریت کا راستہ اختیار کیا ہوا ہے۔ ایک طرف دہشت گرد ہیں اور دوسری طرف ہم ہیں‘۔

انہوں نے آمریت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی رگوں میں بینظیر کا خون ہے اور وہ کسی آمر کو اقتدار پر قبضہ کرنے کا حق نہیں دیں گے۔‘

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے اپنی تقریر میں پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے حوالے سے دائر ریفرنس کے بارے میں عدالتی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کی عدلیہ سے مختلف سوالات کیے۔ ’ میں اس ملک کے بڑے قاضی سے سوال کرتا ہوں کہ کیا ان کے پاس بھٹو ریفرنس سننے کے لیے وقت نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے مخالفین کو آمروں کی وردیاں نظر نہیں آتیں لیکن ان سے ایک سویلین صدر کے پانچ برس ہضم نہیں ہوتے۔ بلاول بھٹو زرداری نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی عوام کی قربانیوں کو سراہا اور ملالا یوسفزئی، سلمان تاثیر، بشیر احمد بلور، شہباز بھٹی اور کئی دیگر کی قربانیوں کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ہم سب اس راستے کے مسافر ہیں۔

"بلاول بھٹو زرداری کوئی پہلی بار تقریر نہیں کر رہے ہیں۔ یہ ایک تاثر دینے کی کوشیش کی جا رہی ہے کہ ان کو لانچ (آغاز کروایا جا رہا) کیا جا رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں لانچنگ نہیں ہوتی اور پیپلز پارٹی لانچنگ نہیں کرتی۔"

وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ

اپنی تقریر میں انہوں نے پیپلز پارٹی کی حکومت کے مختلف منصوبوں کا ذکر کیا جن سے ان کے بقول عوام کو فائدہ پہنچا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے صوبہ بلوچستان میں جاری شورش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’بلوچستان میں لگنے والی آگ سے ہم غافل نہیں ہیں اور بلوچستان ہمارے جسم کا حصہ ہے۔ ہم نے بلوچستان کو حقوق دیے۔‘

پاکستان میں اتنے بڑے پیمانے پر عوامی جلسے سے یہ چوبیس سالہ بلاول بھٹو زرداری کا پہلا خطاب تھا۔

صدر آصف علی زرداری نے بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد بلاول کو پیپلز پارٹی کا چیئرمین مقرر کیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر انیس سال تھی۔

بلاول نےماضی میں کچھ تقاریر تو کی ہیں لیکن پیپلز پارٹی کے عہدیداران نے اس سے پہلے بتایا تھا کہ اس برسی سے ان کے باقاعدہ سیاسی کیریئر کا آغاز کرایا جائے گا۔ عہدیداران کے مطابق بلاول نے ایک اردو تقریر تیار کی تھی جو انہوں نے گڑھی خدا بخش میں جلسے میں کی جس میں پہلی مرتبہ انہوں نے پارٹی کے چیئرمین کے طور پر لوگوں سے خطاب کیا۔

اس سے پہلے وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے سکھر پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بلاول بھٹو زرداری کوئی پہلی بار تقریر نہیں کر رہے ہیں۔ یہ ایک تاثر دینے کی کوشیش کی جا رہی ہے کہ ان کو لانچ (آغاز کروایا جا رہا) کیا جا رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں لانچنگ نہیں ہوتی اور پیپلز پارٹی لانچنگ نہیں کرتی۔‘

جبکہ دوسری جانب وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایک شمع جو برسوں پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے روشن کی تھی اسے ان کے نواسے آگے بڑھا رہے ہیں۔‘

اسی جلسے سے خطاب میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں مصر کے طرز کا سیاسی ماڈل نہ تسلیم کیا جائے گا اور نہ ہی اسے چلنے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بہت نقاب پوشوں کے نقاب اتریں گے اور ہم جمہوریت کے ذریعے ہی انتقام لیتے ہیں۔

"اگر کسی کو سیاست میں حصہ لینا ہے تو وہ انتخاب لڑے اور جیت کر حکومت میں آئے باقی کسی صورت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔"

صدر، آصف علی زرداری

گڑھی خدا بخش میں موجود نامہ نگار جاوید سومرو کے مطابق صدر زرداری نے نام نہیں لیا لیکن بظاہر انہوں نے تحریک منہاج القرآن کے سربراہ طاہر القادری کے اس مطالبے کو رد کردیا جس میں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ نگراں حکومت کے قیام میں فوج، عدلیہ اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی رائے بھی شامل کی جائے۔ صدر نے کہا کہ ’اگر کسی کو سیاست میں حصہ لینا ہے تو وہ انتخاب لڑے اور جیت کر حکومت میں آئے باقی کسی صورت کو برداشت نہیں کیا جائے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ منصفانہ انتخابات کرانے کے تمام انتظامات کئے گئے ہیں، آزاد الیکشن کمیشن قائم کیا گیا ہے اور غیرجانبدار نگراں سیٹ اپ بنانے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں سے صلاح و مشورے کئے جارہے ہیں۔

صدر زرداری نے شریف برادران کا نام لئے بغیر ان پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے جمہوریت کے لئے جانیں قربان کی ہیں نہ کہ جہازوں کا انتظار کیا کہ کوئی آئے اور انہیں ملک سے لے جائے۔ آصف علی زرداری نہ کہا کہ ہم ایوان صدر میں اڑن کھٹولے پر بیٹھ کر نہیں آئے بلکہ بارہ بارہ سال کی جیل کاٹی ہے۔

برسی کے موقع پر انہوں نے اپنے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے باقائدہ سیاست کے آغاز کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ ان کی تعلیم اب پوری ہوگئی ہے اور اب وہ یہاں عوام میں رہ کر تربیت حاصل کریں گے۔

جلسے سے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، مخدوم امین فہیم، اعتزاز احسن، رضا ربانی، سید قائم علی شاہ اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

بے نظیر بھٹو اور بھٹو خاندان کی دیگر شخصیات کے اس مقبرے پر ہزاروں لوگوں کے قافلے کل دن سے آنا شروع ہوگئے تھے لیکن بیشتر مبصرین کا خیال تھا کہ حکومت اور پیپلز پارٹی نے جس قدر اخراجات کئے تھے اور جتنے اقدامات کئے تھے لوگوں کی تعداد شائد اتنی نہیں تھی۔

سندھ میں پی پی پی کی حکومت کی مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ناراض ہے اور اور مبصر نے کہا کہ جلسے میں ماضی جیسا جوش و خروش بھی نہیں تھا۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔