پاکستانی سٹاک مارکیٹ: حیران کن کارکردگی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 29 دسمبر 2012 ,‭ 20:21 GMT 01:21 PST

معاشی مشکلات کے باوجود بیرونی سرمایہ کاری کا رجحان برقرار رہا ہے

پاکستان کے بارے میں اچھی خبر آج کل کم ہی ملتی ہے۔ سیاست ہو، معیشت یا کوئی اور شعبہ، ہر دن عوام کو ایک نئے مسئلے، ایک نئی مشکل کا سامنا ہے۔

معاشی ابتری اور زبوں حالی نے عوام کو شدید مشکلات سے دو چار کر دیا ہے۔ ملک کے لیے مقرر کیے گئے معاشی اہداف حاصل کرنا معاشی منتظمین کے لیے سب سب سے بڑا چیلنج ہے۔

ایسے میں پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں استحکام، انڈیکس اور درج کمپنیوں (لسٹڈ اداروں) کے حصص کی قیمتوں مجموعی اضافے (روپے اور ڈالر کے لحاظ سے) یعنی مارکیٹ کیپٹلائزیشن نے اسے خطے میں شاندار کارکردگی والی سٹاک مارکیٹ بنا دیا ہے۔ یہ کارکردگی مالی سال کی بنیاد پر نہیں بلکہ سال دو ہزار بارہ (جنوری تا دسمبر) کی بنیاد پر دیکھنے میں آئی۔

ٹاپ لائن سیکیوریٹیز کے چیف ایگزیکیٹو محمد سہیل کہتے ہیں کہ مشکلات کے باوجود کارکردگی کے لحاظ سے پاکستانی سٹاک مارکیٹ کیلنڈر سال دو ہزار بارہ میں ایشیا کی بہترین مارکیٹ رہی ہے۔

جمعہ اٹھائیس دسمبر کو سٹاک مارکیٹ کے ایس ای ہنڈرڈ انڈ یکس 16943 پوائنٹس پر بند ہوا۔ سال دو ہزار بارہ میں اب صرف ایک کاروباری دن باقی ہے یعنی اکتیس دسمبر۔ اس وقت روپے کے لحاظ سے مارکیٹ کیپٹلائزیشن 4256 ارب روپے اور ڈالر کے لحاظ سے 43 ارب 77 کروڑ ڈالر ہے۔

کیلنڈر سال دو ہزار بارہ کے اختتام پرانڈیکس کی قدر میں روپے کے لحاظ سے تقریباً 48 فیصد اور ڈالر کے لحاظ سے تقریباً 37 فیصد اضافہ ہوا۔ معاشی مشکلات خاص طور پر توانائی کے سنگین بحران کو دیکھتے ہوئے یہ کیسے ممکن ہوا؟

تجزیہ کار کہتے ہیں شرح سود میں گذ شتہ اٹھارہ ماہ میں ہونے والی ساڑھے چار فیصد کمی نے سٹاک مارکیٹ کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ شرحِ سود حالیہ کمی کے بعد ساڑھے نو فیصد پر آ گئی ہے۔

شرح سود گرنے کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے گورنمنٹ پیپرز یعنی سرکاری تمسکات (ٹریژری بلز، پاکستان انوسٹمنٹ بانڈز وغیرہ) میں پیسہ لگانے کے مقابلے میں حصص میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی کیونکہ بازارِ حصص میں بہتر منافع حاصل ہونے کی توقع تھی جو بڑی حد تک درست ثابت ہوئی۔

دیگر عوامل میں حصص کے کاروبار پر کیپٹل گین ٹیکس کا تنازع حل ہونا، سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے ضمن میں ٹیکس قوانین میں نرمی (ٹیکس ایمنسٹی اسکیم)، کمپنیوں کے بہتر مالی نتائج، اچھے منافعے کا اعلان اور بیرونی سرمایہ کاروں کی پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں غیر متزلزل دلچسپی بھی شامل ہیں۔ محمد سہیل کہتے ہیں بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی مارکیٹ حصص کی کم قیمتوں اور بہتر منافعے کی وجہ سے پر کشش ہے۔ باوجود معاشی مشکلات کے بیرونی سرمایہ کاری کا رجحان برقرار رہا ہے۔

"صدر آصف زرداری کے اس اعلان کے بعد کے انتخابات وقت پر ہوں گے، سیاسی بے یقینی کم ہوئی ہے۔ وقت پر انتخابات اور پُرامن انتقال اقتدار سے اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔"

ٹاپ لائن سیکیوریٹیز کے چیف ایگزیکیٹو محمد سہیل

پاکستانی سٹاک مارکیٹ متاثرکن کارکردگی کے باوجود اب بھی ڈالر کے لحاظ سے مارکیٹ کیپٹلائزیشن کی اس بلند سطح سے 42 فیصد کم ہے جواپریل دو ہزار آٹھ میں تھی جب ڈالرز میں کیپٹلائزیشن 75 ارب ڈالر تھی۔

ٹاپ لائن سیکیوریٹیز کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستانی بازار حصص کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن مجموعی قومی پیداوار کے صرف 20 فیصد کے برابر ہے جو خطے میں انتہائی کم تصوًر کی جاتی ہے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں پاکستانی روپے کی قدر میں تیزی سے ہونے والی کمی، سٹاک مارکیٹ میں نئی کمپنیوں کا اندراج نہ ہونا اور دیگر کئی عوامل پاکستانی سٹاک مارکیٹ کی کارکردگی کی راہ میں بڑی رکاوٹ رہے ہیں۔ پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں اس سال صرف تین کمپنیوں کا اندراج ہوا۔

سمٹ کیپٹل کے تجزیہ کار فرحان ملک کہتے ہیں کہ پاکستانی مارکیٹ میں زیادہ کاروبار نقد کے بنیاد پر ہو رہا ہے اور سرمایہ کاروں کے پاس اتار چڑھاؤ برداشت کرنے کی سکت ہے۔ اس لیے کسی بحران کا خدشہ نہیں۔

سرد و گرم کے باوجود سیاسی میدان میں بھی کوئی بڑی محاذ آرائی دیکھنے میں نہیں آئی جس نے بھی بازار حصص کے استحکام میں اپنا کردار ادا کیا۔

محمد سہیل کا کہنا ہے کہ صدر آصف زرداری کے اس اعلان کے بعد کے انتخابات وقت پر ہوں گے، سیاسی بے یقینی کم ہوئی ہے۔ وقت پر انتخابات اور پُرامن انتقال اقتدار سے سٹاک مارکیٹ کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

فرحان ملک کا کہنا ہے کہ سیاسی حالات بازار حصص کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اگر انتخابات وقت پر ہوں اور پرامن انتقال اقتدار ہو جائے تو سٹاک مارکیٹ میں بہتری کی بڑی گنجائش ہے اور آنے والے مہینوں میں کے ایس ای ہنڈرڈ انڈیکس 18 ہزار سے تجاوز کر جائے گا۔

مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کے انتخابات اور انتقال اقتدار وقت پر ہونا ضروری ہے۔ انھیں توقع ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں نیا سیاسی انتظام بنے گا۔ اکثر کا خیال ہے کے نئی حکومت پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی قیادت میں دوسری جماعتوں کے اتحاد سے بنے گی۔

تاہم موجودہ سیاسی انتظام برقرار رہنے کو بھی مسترد نہیں کیا جا رہا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔