پشتو شاعری پر شدت پسندی کے اثرات

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 دسمبر 2012 ,‭ 15:43 GMT 20:43 PST

”چاچے خدے ثنا کولو پہ تسبحو پہ دانو

نن ہغہ خلق د سرونوں کاروبار کوی‘

پشتو کے معروف شاعر اور امن کے داعی اکبر سیال کا یہ شعر اسلام آباد میں پشتون ثقافت پرگزشتہ ایک دہائی کے دوران شدت پسندی اور انتہا پسسندی کے منفی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک نجی تنظیم فاٹا ریسرچ سینٹر کی جانب سے ایک مباحثے کے دوران پڑھاگیا۔

اس کا ترجمہ یہ ہے..۔ ’جو لوگ تسبیح کے دانوں پر خدا کا ذکر کیا کرتے تھے، وہ لوگ آج سروں کا کارو بار کر رہے ہیں۔‘

قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر حنیف خلیل نے پشتو شاعری اور اس کی مقبول صنف ٹپہ پر شدت پسندی کے اثرات پر مقالہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں پشتو شاعر امن اور محبت کا پیغام پھیلایا کرتے تھے لیکن اب گانوں میں خودکشی اور بم دھماکوں کی بات ہوتی ہے۔

شدت پسندی کے خلاف شاعری کا ایک اور نمونہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے ایک اور شعر پیش کیا جس کا ہدف امریکہ اور نیٹو ممالک ہیں۔

’حاغہ نہ کوی پہ اخپل وطن کہ دے جنگ واعظونہ

خاغہ زما کور تہ روڑے دے د ذلت تصور‘

یعنی ’وہ اپنے ملک میں جنگ کی باتیں اعلان نہیں کرتا، تاہم وہ میرے گھر میں لایا ہے ذلت کا تصور۔‘

سوات کے ایک شاعر شباب رانزئی کا ایک شعر ہے :

’یمہ پختون پہ ماں سوک بھروشہ نشی کولے،

ماتہ زما د قتل بوئیں زما د رورا رازی‘

یعنی میں پٹھان ہوں مجھ پر کوئی بھروسہ نہیں کرسکتا، مجھے میرے قتل کی بو میرے بھائی سے آ رہی ہے۔

پاکستان کے پشتون علاقوں میں شدت پسندی کی لہر نے جس طرح یہاں کے معاشرے کو بری طرح متاثر کیا ہے اس کے بعد دانشور سمجھتے ہیں کہ اس معاشرے کا وجود ہی نہیں رہا ہے۔

پشتو کے معروف شاعر اور مصنف اکبر سیال کہتے ہیں کہ ’ہمیں آئندہ پانچ سو سال تک کسی نئی جنگ کی ضرورت نہیں ہم نے اپنا کوٹہ کب کا پورا کر لیا ہے۔ جہاں پر معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر ختم ہو جاتا ہے وہاں اقدار کا احیاء ایک الگ بحث بن جاتی ہے۔ اس وقت بات یہ ہونی چاہیے کہ ماضی والا معاشرہ کیسے بحال کیا جائے۔”

پشتون اقدار پر اثرات کے بارے میں اکبر سیال کا کہنا تھا کہ پردے کی ہی اگر آپ مثال دیں تو عورتیں پہاڑوں پر لکڑیاں اکٹھی کرنے جاتی تھی، بھیڑ بکریاں چرا سکتی تھیں، پانی بھر سکتی تھیں اور کھیتوں میں کام کرسکتی تھیں۔

”میں نے قبائلی علاقوں میں عورتوں کا پردہ نہیں دیکھا تھا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہاں بےحیائی تھی۔ پردہ نہیں تھا لیکن حیاء تھی۔‘

اکبر سیال کے مطابق قبائلی علاقوں میں اعلی ترین اسلحہ کی تیاری کے باوجود امن و امان کی صورتحال ملک کے دیگر علاقوں سے بہتر تھی۔

معروف پشتو اداکار ارشد حسین نے جو خود بھی نو روز تک اغوا رہنے کے بعد رقم کی ادائیگی کے بعد رہا ہوئے شکایت کی کہ پشتون معاشرے میں فن کو پسند تو کیا جاتا ہے فنکار کو نہیں۔ ’فنکاروں کو ڈم جیسے تضحیک آمیز الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے۔‘

انہوں نے ایک ویڈیو کے ذریعے بتایا کہ اس خطے سے گزشتہ گیارہ برسوں کے دوران ہارون باچہ، گلزار اور عالم زیب جیسے معروف پشتو گلوکار اور فنکاروں کی مثال دی جو یا تو امریکہ اور ملائیشیا جیسے ممالک نقل مکانی کرچکے ہیں یا پھر فن کو چھوڑ کر تبلیغ میں چلے گیے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کہ سکیورٹی کی خراب صورتحال کے باوجود پشاور کے نشتر آباد علاقے میں بڑی تعداد میں غیرمعیاری پشتو کے گانے اور ڈرامے حتی کہ فلمیں بھی تیار ہو رہی ہیں تو معیاری کیوں نہیں۔ اس بابت ارشد حسین کا کہنا تھا کہ معیاری فنکار یا تو ملک چھوڑ چکے ہیں یا پھر معاشی فائدہ نہ ہونے کی وجہ سے اس جانب نہیں آتے۔

فاٹا ریسرچ سینٹر کے صدر ڈاکٹر اشرف علی نے کہا کہ پہلے ہم زبرست سیل جیسے پبلسٹی نعرے سنا کرتے تھے وہ اب دھماکہ سیل اور خودکش میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس رجحان کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔