پاکستان نے طورخم سرحد کھولنے کا فیصلہ کر لیا

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 29 دسمبر 2012 ,‭ 15:13 GMT 20:13 PST

طورخم سرحد بند کیے جانے کے باعث پاکستان اور افغانستان میں دونوں جانب ٹرکوں اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی تھیں

افغانستان کے سفیر کی جانب سے افغان سرحد پر پاکستانی شہریوں پر تشدد کے واقعات کی تفتیش کی یقین دہانی کے بعد سنیچر کو پاکستان نے طورخم کی سرحد کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان نے گزشتہ روز اپنے دو شہریوں پر افغان فورسز کی جانب سے تشدد کے بعد احتجاجاً طورخم سرحد بند کردی تھی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق سنیچر کو اسلام آباد میں تعینات افغانستان کے سفیر محمد عمر داؤد زئی نے وزراتِ خارجہ کے سپیشل سیکرٹری عالمگیر بابر سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ وہ پاکستانی شہریوں پر تشدد کے واقعات کی تفتیش کریں گے اور ذمہ داروں کو سزا دیں گے تاکہ مستقبل یہ واقعات رونما نہ ہوسکیں۔

اس یقین دہانی کے بعد پاکستان نے طور خم سرحد کھولنے کا حکم دیا۔

طورخم سرحد بند کیے جانے کے باعث پاکستان اور افغانستان میں دونوں جانب ٹرکوں اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی تھیں۔

حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ طورخم سرحد کی بندش کے دوران کچھ مریضوں اور میتوں کو افغانستان لے جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

حکام کے مطابق جمعہ کو دو پاکستانی مزدور افغانستان سے پاکستان واپس آ رہے تھے کہ افغان سکیورٹی فورسز نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی، مارا پیٹا اور ان کے سفری دستاویزات پھاڑ دیے تھے۔

یاد رہے کہ بائیس دسمبر کو بھی پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر انتیس پاکستانی مزدوروں کے ساتھ افغان سکیورٹی فورسز نے بدسلوکی کی اور انہیں مارا پیٹا تھا۔ اس پر پاکستانی کے دفتر خارجہ نے افغان حکومت سے سخت احتجاج کیا تھا۔

تیئس دسمبر کو پاکستان سے افغانستان جانے والے ایک ٹرک پر ننگر ہار صوبے میں حملہ کیا گیا جس میں ٹرک ڈرائیور اور ان کا ساتھی مارے گئے۔

ستائیس دسمبر کو پاکستان کی خیبر ایجنسی کے شہر لنڈی کوتل میں نامعلوم افراد نے افغانستان جانے والے افغانیوں کی گاڑیاں روک کر انہیں مارا پیٹا اور ان کے سفری دستاویز پھاڑ دیے جس پر افغانستان کی حکومت نے پاکستان سے احتجاج کرتے ہوئے تفتیش کا مطالبہ کیا تھا۔

غیر سرکاری معلومات کے مطابق ستائیس دسمبر کو افغان شہریوں پر تشدد کرنے والوں کا تعلق حال ہی میں افغانستان میں پٹنے والے پاکستانی شہریوں کے اہل خانہ سے تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں قائم افغانستان کے سفارتی دفاتر سے روزانہ تقریباً بارہ سو پاکستانیوں کو ویزا جاری کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد سے روزانہ تقریباً دو ہزار لوگ آتے جاتے ہیں۔

حکام کے مطابق اس وقت ایک لاکھ پاکستانی افغانستان میں کام کر رہے ہیں جن میں زیادہ تر تعمیراتی کام کرتے ہیں اور ایسے کارکنوں میں اکثریت کا تعلق پنجاب سے ہے۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کے مطابق سولہ لاکھ رجسٹرڈ اور دس لاکھ کے قریب غیر رجسٹرڈ افغانی پاکستان میں مقیم ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔