پاکستان میں شیعہ ہلاکتیں: ٹارگٹ کلنگ یا نسل کشی؟

آخری وقت اشاعت:  اتوار 30 دسمبر 2012 ,‭ 16:29 GMT 21:29 PST

پاکستان میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے تاہم اب سوشل میڈیا پر پاکستان میں شیعہ افراد کے قتل کے واقعات میں اضافے پر احتجاج کے دوران اسے ’شیعہ جینوسائیڈ‘ یا شیعوں کی نسل کشی کا نام دیا جا رہا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس احتجاجی مہم کا آغاز تقریباً ایک ماہ قبل ہوا اور اس مہم کے تحت ہر اتوار کو ٹوئٹر پر اکٹھے ہو کر ’شیعہ جینوسائیڈ‘ کے ہیش ٹیگ کو استعمال کر کے احتجاج ریکارڈ کروا یا جا رہا ہے۔

اس مہم میں دنیا بھر سے لوگ شرکت کرتے ہیں جن میں عام افراد کے علاوہ صحافت سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نمایاں افراد بھی شامل ہیں۔

اس مہم کے ذریعے جس امر کی جانب توجہ مبذول کروائی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان میں شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔

مہم میں شامل کراچی سے تعلق رکھنے والے احد حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کراچی میں کئی سڑکیں ایسی ہیں جہاں سے گزریں تو ذہن میں آتا ہے کہ یہاں فلاں شیعہ شخصیت قتل ہوئی یا فلاں ہلاک ہوا۔ حال ہی میں مہذر زہرہ کے والد کا قتل ہوا اور انہیں شدید زخمی کیا گیا۔ اس کے بعد پھر ڈاکٹر کنیز اور ان کے شوہر کو قتل کیا گیا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔‘

تاہم پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے اطلاعات صمصام بخاری اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے ہیں کہ پاکستان میں شیعہ افراد کی ہلاکت کو نسل کشی کہا جا سکتا ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں قطعاً اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ پاکستان میں شیعہ افراد کی نسل کشی ہو رہی ہے۔ یہ ایک ذہنیت ہے جنہوں نے اپنی طرز کا اسلام کر دیا ہے۔ نہ وہ اہل تشیع کو مانتے ہیں، نہ وہ بریلویوں کو مانتے ہیں۔ عید میلاد النبی کے جلسے ہوں، محرم الحرام کے جلوس ہوں وہ اتنے کوئی نامراد لوگ ہیں وہ وہاں آ کر ان پر حملہ کرنا اسلام کا حصہ سمجھتے ہیں حالانکہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک خاص فقہ ہے جو اس طرح کی کارروائیاں کرنے پر لگی ہوئی ہے۔‘

"ایسا نہیں کہ میڈیا (ذرائع ابلاغ) میں ایسی کالی بھیڑیں نہیں جو جانتے بوجھتے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش نہیں کرتیں، یا ان سے چشم پوشی نہیں کرتیں۔ مختصراً یہ کہ ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب شکایات حق بجانب ہوتی ہیں۔‘"

عباس ناصر، سینیئر صحافی

نجی ٹی وی چینل کی ڈائریکٹر کرنٹ افیئرز اور صحافی نسیم زہرہ بھی ان ہلاکتوں کو نسل کشی ماننے پر تیار نہیں۔ ’جب میں یہ لفظ (نسل کشی) سنتی ہوں تو مجھے پریشانی ہوتی ہے کیونکہ درحقیقت پاکستان میں ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ اگر پاکستان میں میرے نزدیک کسی کی نسل کشی ہو رہی ہے تو وہ ہزارہ ہیں کیونکہ انہیں ایک علاقے سے نکالنے یا ان کے خاتمے کی باقاعدہ منظم کوشش کی جا رہی ہے۔شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے اور یہ ایک حقیقت ہے مگر نسل کشی کے لفظ کا استعمال بےمحل ہے۔‘

ٹوئٹر پر مہم میں شریک افراد شیعوں کی ہلاکتوں کی کوریج اور پر پاکستانی میڈیا سے بھی نالاں نظر آتے ہیں۔ ٹوئٹر پر اس مہم کے سرگرم رکن اور کراچی کے ایک بلاگر نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میڈیا شیعہ افراد کے قتل کے بارے میں بالکل جانب دار ہے اور شاید دباؤ میں آ کر اس کو نظر انداز کرتا ہے یا ان کے نزدیک شیعہ افراد کا قتل کوئی معنی نہیں رکھتا۔‘

ان کا سوال تھا کہ ’جس طرح باقی فرقوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر میڈیا کرتا ہے تو شیعہ افراد پر ہونے والے مظالم کے بارے میں خاموشی کی وجہ کیا ہے؟‘

اس بارے میں نسیم زہرہ کا کہنا ہے کہ ’شیعہ افراد کا قتل بالکل ہو رہا ہے لیکن اسے صرف فرقہ وارانہ رنگ دینا درست نہیں ہے۔ شیعہ افراد کی شکایات درست ہیں مگر یہ بات درست نہیں ہے کہ میڈیا یا ریاست ان کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ریاست نے بہت آگے جا کر جیسا کہ اس بار محرم کے دوران شیعہ افراد کی حفاظت کے لیے انتظامات کیے تو یہ بات عمومی طور پر چسپاں کر دینا درست نہیں ہے۔‘

"جب میں یہ لفظ (نسل کشی) سنتی ہوں تو مجھے پریشانی ہوتی ہے کیونکہ درحقیقت پاکستان میں ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ اگر پاکستان میں میرے نزدیک کسی کی نسل کشی ہو رہی ہے تو وہ ہزارہ ہیں کیونکہ انہیں ایک علاقے سے نکالنے یا ان کے خاتمے کی باقاعدہ منظم کوشش کی جا رہی ہے۔شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے اور یہ ایک حقیقت ہے مگر نسل کشی کا لفظ کا استعمال بے محل ہے۔"

صحافی نسیم زہرہ

سینیئر صحافی عباس ناصر اس بارے میں کہتے ہیں کہ ’میڈیا جس انداز سے، یا الفاظ میں، اس قتل و غارت کو رپورٹ کرتا ہے وہ متاثرہ فرقے یا گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے اکثر و بیشتر قابل قبول نہیں ہوتا۔ جہاں ہمیں، یعنی میڈیا کو ہر وقت صحافیانہ توازن برقرار رکھنا ہوتا ہے اور جذبات کو بالائے طاق رکھنا پڑتا ہے وہاں متاثرین فقط اپنے ٹوٹے دلوں اور روتی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور پھر ناراض ہوتے ہیں‘۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’اس کے یہ معنی نہیں کہ میڈیا (ذرائع ابلاغ) میں ایسی کالی بھیڑیں نہیں جو جانتے بوجھتے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش نہیں کرتیں، یا ان سے چشم پوشی نہیں کرتیں۔ مختصراً یہ کہ ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب شکایات حق بجانب ہوتی ہیں۔‘

پاکستان میں دو ہزار بارہ مختلف اقلیتی فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے ایک انتہائی مشکل سال تھا۔ اگلے سال انتخابات متوقع ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ اگلا سال ان فرقوں اور گروہوں کے لیے کیسا ثابت ہو گا کیونکہ جانے والے سال کے آخری دن کی خبریں کچھ اچھے شگون نہیں ظاہر کرتیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔