’لیویز اہلکاروں کو ندیم عباس گروپ نے ہلاک کیا‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 1 جنوری 2013 ,‭ 16:59 GMT 21:59 PST

لیویز کے اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل نے قبول کی تھی

پاکستان کے خفیہ اداروں کی جانب سے حکومت کو بھیجی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیم فوجی دستے کے اکیس اہلکاروں کو اغواء کر کے قتل کرنے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے ٹارگٹ گروپ ندیم عباس عرف ’انتقامی‘ کو دی گئی تھی۔

خفیہ اداروں کی جانب سے بھیجی جانے والی اس واقعے سے متعلق ابتدائی رپورٹ میں اس ٹارگٹ گروپ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اُس کے ارکان ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں بھی ملوث ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ یہ گروپ پشاور اور متنی کے علاقوں میں زیادہ سرگرم ہے اور اس کے کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی سے قریبی روابط ہیں۔

یاد رہے کہ پشاور کے نزدیک ماشو خیل میں ایک چیک پوائنٹ سے اغوا کیے جانے والے اکیس نیم فوجی اہلکاروں کو شدت پسندوں نے ہلاک کر دیا تھا۔ لیویز کے اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل نے قبول کی تھی۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق لیویز اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد علاقے میں فرنٹئیر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا ہے۔ اس سے کچھ عرصہ قبل ٹانک کے علاقے میں بھی نیم فوجی دستے یعنی لیویز کے سترہ اہلکاروں کو اغواء کرنے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

فرنٹئیر کانسٹیبلری تعینات

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اکیس لیویز کے اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد علاقے میں فرنٹئیر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا ہے۔

اہلکار کے مطابق چند روز قبل خفیہ اداروں نے اِسی علاقے سے ایک ٹیلی فون کال ٹیپ کی تھی جس میں ٹارگٹ گروپ کے سربراہ طارق آفریدی نے ندیم عباس عرف انتقامی کو سکیورٹی فورسز اور نیم فوجی دستوں پر حملے کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔

واضح رہے کہ لیویز کے اہلکار پولیٹیکل ایجنٹ کے ماتحت ہوتے ہیں اور انہیں زیادہ تر وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے قریب فرنٹیئر ریجن میں تعینات کیا جاتا ہے، اور ڈپٹی کمشنر کو پولیٹکل ایجنٹ کے اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں۔

لیویز میں بھرتی کے لیے مقامی افراد کو فوقیت دی جاتی ہے اور اس کی ذمہ داری بھی پولیٹکل ایجنٹ پر ہی ہوتی ہے۔

متعقلہ حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس علاقے میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا ہے جو لیویز کے ساتھ مل کر علاقے میں امن و امان کی صورت حال پر نظر رکھیں گے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے سکیورٹی اداروں نے میران شاہ سے ایک کال ٹیپ کی تھی جس میں تحریک طالبان پاکستان کے رہنما حکیم اللہ محسود ملالہ یوسف زئی کے واقعہ سے متعلق میڈیا پر اُن کے گروپ پر تنقید کا بدلہ لینے کے لیے ندیم عباس کو میڈیا کے نمائندوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہدایات جاری کر رہے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔