صوابی: این جی او کی گاڑی پر فائرنگ، سات ہلاک

آخری وقت اشاعت:  منگل 1 جنوری 2013 ,‭ 11:41 GMT 16:41 PST

اجالا کمیونٹی سینٹر ایک مقامی این جی او ہے جو علاقے میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کام کررہی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک غیر سرکاری تنظیم کی گاڑی پر ہونے والے حملے میں چھ خواتین سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل کو موٹر وے کے قریب انبار کے علاقے میں سروس روڈ پر پیش آیا۔ اس حملے میں گاڑی کا ڈرائیور زخمی ہوا ہے۔

صوابی پولیس کنٹرول روم نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپورٹ ود ورکنگ سولیوشن نامی غیر سرکاری تنظییم کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی۔

اس حملے میں چھ خواتین اور ایک مرد کارکن ہلاک ہو گئے۔ اس کے علاوہ گاڑی کے ڈرائیور زحمی ہوئے ہیں۔

یہ ایک مقامی این جی او ہے جو علاقے میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کام کررہی ہے۔

این جی او کے سربراہ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں پانچ استانیاں، ایک لیڈی ہیلتھ ورکر اور ایک ٹیکنیشن شامل ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ صوابی میں غیر سرکاری تنظیم پر حملہ کیا گیا ہے۔

صوابی کے ضلعی پولیس سربراہ عبدالرشید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی غیر سرکاری تنظیم اجالا کمیونٹی سینٹر کے اہلکار گاڑی میں جارہے تھے کے سڑک کے کنارے پہلے سے موجود مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔

پولیس افسر نے مزید بتایا کہ حملے کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے تاہم ابھی تک کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ۔ تاہم ضلعی پولیس سربراہ نے اس بات سے لاعلمی کا اظہار کیا کہ اس تنظیم کو کون سا ادارہ چلا رہا ہے۔

حملے کا نشانہ بننے والی تنظیم ایس ڈبلیو ڈبلیو ایس 1991 میں قائم ہوئی تھی۔ ابتدا میں اس کے نام کا مطلب صوابی ویمن ویلفیئر سوسائٹی تھا، لیکن 2009 میں اسے بدل کر سپورٹ وِد ورکنگ سلوشن کر دیا گیا۔

تنظیم کے ایک اہل کار محمد رفیق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تنظیم صوبہ پختون خوا بھر میں فلاحی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ صوابی میں تنظیم غربت میں کمی کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تنظیم کو حملے سے قبل شدت پسندوں کی طرف سے کوئی دھمکی نہیں ملی تھی۔

خیال رہے کہ صوابی میں سکولوں پر تو حملے تو ہوتے رہے ہیں اور ان کو تباہ کیا گیا ہے۔ تاہم اس سے پہلے غیر سرکاری تنظیموں کے اہلکاروں پر حملے نہیں ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔