سندھ: انیس ملزمان کی شناخت کا دعویٰ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 2 جنوری 2013 ,‭ 11:30 GMT 16:30 PST

دادو کی اس مسجد میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی کا واقعہ پیش آیا تھا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع دادو کی پولیس نے سیتا ولیج میں ایک شخص کو تشدد کر کے ہلاک کرنے اور اس کی لاش جلانے کے الزام میں گرفتار انیس ملزمان کی شناخت کا دعویٰ کیا ہے۔

دادو کے علاقے سیتا ولیج میں اکیس دسمبر دو ہزار بارہ کو ایک ہجوم نے قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں ایک نوجوان کو تھانے کے لاک اپ میں گھس کر تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں وہ نوجوان ہلاک ہو گیا اور پھر بعد میں گاؤں کے چوک پر اس کی لاش کو آگ لگا دی گئی تھی۔

ایس ایس پی دادو عثمان غنی نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ انیس افراد کو واقعے کی موبائل فون کی مدد سے بنائی گئی ویڈیوز سے شناخت کرنے اور دیگر شواہد کی بنا پر باضابطہ طور پر گرفتار کیا گیا ہے۔

عثمان غنی کے مطابق ان انیس افراد کا چالان چار جنوری کو مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ آٹھ سے دس ایسے لوگ ہیں جو اس کارروائی میں ملوث رہے ہیں مگر پولیس انہیں تاحال گرفتار نہیں کر سکی ہے اور ان افراد کو عدالت کے ذریعے انہیں مفرور قرار دلوایا جائے گا۔

ایس ایس پی عثمان غنی کے مطابق مقتول کا خاکہ بنا کر مختلف تھانوں میں بھیجا گیا ہے تاہم ہلاک ہونے والے نوجوان کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے۔

ادھر اس واقعے کی جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں ان میں ایک شخص کو زمین پر بےسدھ پڑا دیکھا جا سکتا ہے جس پر لوگ اینٹیں اور پتھر برسا رہے ہیں جبکہ ساتھ میں سندھی میں یہ آوازیں بھی آرہی ہیں کہ ’مر گیا مرگیا اب اسے شہر کی طرف لے چلو‘۔

ایک اور ویڈیوز میں لوگوں کو اس شخص پر جھاڑیاں رکھتے اور مطمئن نہ ہونے پر آگ لگانے کے لیے بڑی لکڑیاں منگواتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ پولیس نے اس معاملے میں تھانہ سیتا ولیج کے تھانیدار سمیت سات پولیس اہلکاروں کو بھی حراست میں لیا تھا جنہیں بعد میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔