انتخابات تک اسلحہ لائسنس پر پابندی کی سفارش

آخری وقت اشاعت:  بدھ 2 جنوری 2013 ,‭ 17:08 GMT 22:08 PST

پولنگ سے دوہفتے قبل پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی جائے گی: الیکشن کمیشن

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے عام انتخابات تک ہر قسم کے اسلحہ لائسنس کے اجراء پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔

یہ تجویز بدھ کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں دی گئی۔

اجلاس میں عام انتخابات کے دوران امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے ضلعی الیکشن سکیورٹی کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کی سربراہی ضلعی ریٹرننگ افسر کریں گے۔

ہمارے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے سربراہان بھی اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے اور یہ کمیٹی انتخابی مہم کی نگرانی بھی کرے گی۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پولنگ سے دو ہفتے قبل پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی جائے گی۔

الیکشن کمیشن کے اجلاس میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ عام انتخابات کے دوران پولنگ سٹیشنوں پر فوج تعینات کی جائے۔

صوبہ سندھ کی طرف اس تجویز کی حمایت کی گئی جبکہ پنجاب نے اس کے مخالفت کی اور کہا کہ صوبے میں امن وامان کی صورت حال بہتر ہے۔

سیکریٹری الیکشن کمشن اشتیاق احمد خان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن پورے ملک میں ایک ہی روز میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات کروانا چاہتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوج کو تعینات کیا جائے گا۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ضمنی انتحابات میں انتظامی معاملات تسلی بخش نہیں تھے جن کو مد نظر رکھتے ہوئے عام انتخابات میں سکیورٹی کے طریقہ کار کو وضع کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کی تھی اور اُنہیں آئندہ عام انتخابات کے دوران ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا تھا۔

اجلاس میں شریک سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ یاسین ملک کا کہنا تھا کہ پہلے حساس پولنگ سٹیشوں پر فوج تعینات کی جاتی تھی، اب الیکشن کمیشن جیسی ہدایات جاری کرے گی اُس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ انتخابی جلسے چار دیواری میں ہوں گے اور مہم کے دوران اسلحہ لے کر جانے پر پابندی ہوگی۔ تاہم ووٹنگ کے روز اُمیدوار پانچ سکیورٹی گارڈ رکھ سکتا ہے۔ اجلاس میں بتایاگیا کہ آئندہ عام انتخابات کے دوران سات لاکھ انتخابی عملے کی ضرورت پڑے گی۔

انتخابات کے دوران غیر ملکی مبصرین سے متعلق اشتیاق احمد خان کا کہنا تھا کہ اُنہیں ایک ہفتے کے لیے پاکستان بلوایا جائے گا، تاہم ان غیر ملکی مبصرین کی تعداد سے متعلق فیصلہ خصوصی کمیٹی کرے گی۔

اجلاس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹری اور پولیس کے سربراہان اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے شرکت کی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔