گلگت: برفانی تیندوہ بچا لیا گیا

آخری وقت اشاعت:  بدھ 2 جنوری 2013 ,‭ 14:45 GMT 19:45 PST

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں حکام نے نایاب نسل کے ایک برفانی تیندوے کو بچا لیا ہے۔

پاکستان میں قراقرم کے پہاڑی سلسلے پر چین کی سرحد پر واقع گاؤں سوست کے قریب خنجراو ولیجرز آرگنائزیشن اور محکمۂ جنگلی حیات کے مقامی حکام نے مشترکہ گشت کے دوران برفانی تیندوے کے بچے کو بچایا۔

چین کی سرحد کے قریب واقع اس علاقے میں واکھی کمیونٹی رہتی ہے۔

خنجراب ولیجرز آرگنائزینش کے چیئرمین رحمان پوش نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ یہ بچہ اپنی ماں کے ساتھ خنجراب دریا پار کرنا چاہتا تھا جس میں اس کی ماں کامیاب ہوگئی مگر بچہ واپس کنارے کی طرف چلا گیا جو برف سے ڈھکا ہوا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ امدادی ٹیم نے جس وقت بچے کو بچایا اس وقت دریا کا درجۂ حرارت دس سینٹی گریڈ تھا۔

’بچہ کمزوری کے باعث ماں کے پیچھے چلنے سے قاصر تھا اس لیے خنجراب ولیجرز آرگنائزینش نے اُسے اپنی حفاظت میں لیا اور اس بارے میں محکمۂ جنگلی حیات کے کنزرویٹر کو آگاہ کیا‘۔

یاد رہے کہ گلگت بلتستان میں نومبر سے اپریل تک ٹرافی ہنٹنگ کے موسم میں ملکی اور غیر ملکی شکاری شریک ہوتے ہیں اور قانونی طور پر آئی بیکس، بلیو شیپ اور دوسرے جانوروں کا شکار کرتے ہیں۔

ٹرافی ہنٹنگ کا موسم

گلگت بلتستان میں نومبر سے اپریل تک ٹرافی ہنٹنگ کے موسم میں ملکی اور غیر ملکی شکاری شریک ہوتے ہیں اور قانونی طور پر آئی بیکس، بلیو شیپ اور دوسرے جانوروں کا شکار کرتے ہیں۔

خنجراب ولیجرز آرگنائزینش کے چیئرمین عبدالرحمان پوش کے مطابق مقامی لوگ ضاکارانہ طور پر شکار کی نگرانی کرتے ہیں تاکہ غیر قانونی شکار کو روکا جاسکے۔

واضح رہے کہ برفانی تیندوہ ماحول کے تحفظ اور بقا کے لیے کام کرنے والے ادارے آئی یو سی این کی ریڈ لسٹ میں بھی شامل ہے، اس فہرست میں وہ چرند و پرند بھی شامل کیے گئے جن کی نسل ناپید ہو رہی ہے، حکومت اور عالمی اداروں کی کوششوں سے پچھلے چند سالوں میں برفانی تیندوے کی افزائش نسل میں اضافہ ہوا ہے۔

آئی سی یو این کے ماہرین کا کہنا ہے کہ برفانی چیتے کی نسل میں کمی کے اسباب میں مویشیوں کی چراگاہوں میں اضافہ، ان کےرہائشی علاقوں میں کمی، مناسب شکار کے جانوروں کی آبادی میں کمی، ادویات کی تیاری کے لیے اس کے جسمانی اعضاء کی غیر قانونی تجارت اور کھال کے حصول کے لیے اس کا شکار شامل ہیں۔

خنجراب ولیجرز آرگنائزینش کے چیئرمین رحمان پوش کے مطابق ان کی تنظیم 1989 سے اپر گوجل وادی میں برفانی تیندوے کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے، یہ تیسری بار ہے کہ رضاکاروں نے برفانی تیندوے کو بچایا ہے، اس سے پہلے ایسے ہی ایک بچے کو ماحولیات کے عالمی ادارے ورلڈ وائلڈ فنڈ کی نگرانی میں وادی میں چھوڑا گیا تھا۔

برفانی تیندوے کے بچے کے مستقبل کا فیصلہ محکمۂ جنگلی حیات کرے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ واکھی کمیونٹی اور سنو لیپرڈ ایک ہی علاقے میں رہتے ہیں، یہ کمیونٹی پاکستان کے علاوہ چین کے صوبے زیان جیانگ، افغانستان اور تاجکستان میں بھی موجود ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔