ملالہ یوسفزئی، ٹپریری ایوارڈ کی فاتح

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 3 جنوری 2013 ,‭ 13:05 GMT 18:05 PST

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے آٹھ دسمبر کو برمنگھم میں ملالہ یوسفزئی کی تیمارداری کی تھی

پاکستان میں طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی پندرہ سالہ ملالہ یوسفزئی کو سنہ دو ہزار بارہ کا بین القوامی ٹپریری ایوارڈ برائے امن دیا گیا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ملالہ کو آئرلینڈ کا یہ ایوارڈ تمام بچوں کے لیے تعلیم کے حق کے لیے آواز بلند کرنے اور ان کے حوصلے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔

سنہ دو ہزار سات میں پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو نے بھی ٹپریری ایوارڈ جیتا تھا۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس سال ایوارڈ کے لیے ملالہ کے علاوہ نامزد ہونے والوں میں امریکی وزیرِخارجہ ہلری کلنٹن، بھارت میں کانگرس پارٹی کی رہنما سونیا گاندھی، کینیا سے تعلق رکھنے والے سابق صحافی جان گیتھونگو اور تنظیم پیکس کرسٹی انٹرنیشنل شامل ہیں۔

اس سے قبل حکومت پاکستان نے ملالہ یوسفزئی کے والد ضیا الدین یوسفزئی کو برمنگھم میں پاکستانی قونصلیٹ میں تعلیم کا اتاشی مقرر کیا تھا۔

ملالہ یوسفزئی کے والد کا مینگورہ میں اپنا سکول ہے جہاں ان کی اپنی بیٹی بھی زیر تعلیم تھی۔

ملالہ یوسفزئی نو اکتوبر کو طالبان کے ایک حملے میں شدید زخمی ہوگئی تھیں۔ گولی ان کے سر میں لگی لیکن ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ گولی ان کی کھوپڑی کو چھو کرگزر گئی تھی۔

ملالہ یوسفزئی آٹھ دسمبر سے برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ملالہ یوسفزئی کی حالت بہتر ہونے کے بعد ان کے دماغ کا آپریشن ہو گا۔

ملالہ یوسفزئی پرحملے کے بعد طالبان کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس حملے کے حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایاگیا ہے۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے آٹھ دسمبر کو برمنگھم میں ملالہ یوسفزئی کی تیمارداری کی تھی۔

صدر زرداری نے ملالہ یوسفزئی کے والد سے ملاقات میں انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ برطانیہ میں ملالہ یوسفزئی کے علاج کے دوران ان کی خاندان کے برطانیہ میں قیام پر اٹھنے والے اخراجات حکومت پاکستان برداشت کرے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔