وزیرستان میں ڈرون حملے، ملا نذیر سمیت نو ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 3 جنوری 2013 ,‭ 05:16 GMT 10:16 PST

ملا نذیر کو اس سے پہلے بھی دو مرتبہ ڈرون حملے میں ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی تھی

پاکستان کے قبائلی علاقوں جنوبی اور شمالی وزیرستان میں دو ڈرون حملوں میں طالبان کمانڈر ملا نذیر سمیت نو شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان کی پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق ملا نذیر سراکنڈہ کے علاقے میں ہونے والے حملے میں مارے گئے۔

اس حملے میں ان کے علاوہ ایک اور طالبان کمانڈر رتا خان سمیت پانچ دیگر شدت پسند بھی مارے گئے ہیں۔ یہ دو ہزار تیرہ میں پاکستانی سرزمین پر ہونے والا پہلا ڈرون حملہ تھا۔

وانا کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ یہ حملہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات انگور اڈہ کے قریبی علاقے میں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملا نذیر ایک گاڑی میں برمل سے وانا جارہے تھے کہ سراکنڈہ کے مقام پر ان کی گاڑی میزائل کا نشانہ بنی۔ طالبان کی جانب سے اب تک ملا نذیر کی ہلاکت کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔

وانا بازار میں تمام مساجد میں اعلان کیا گیا کہ بازار بند کر دیا جائے اور نمازِ جنازہ میں شرکت کی جائے۔

ملا نذیر کی نمازِ جنازہ وانا سے دس کلومیٹر دور اعظم ورسک میں ادا کی جائے گی۔

دوسرا ڈرون حملہ بھی بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات شمالی وزیرستان میں میر علی کے مقام پر ہوا جہاں ڈرون طیارے نے ایک گاڑی کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق اس حملے میں حکیم اللہ محسود گروپ کے کمانڈر فیصل خان اور دو ازبک شدت پسند مارے گئے۔

جنوبی وزیرستان کے احمد زئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ملا نذیر کا شمالی وزیرستان میں سرگرم حافظ گل بہادر گروپ اور شوریٰ اتحاد المجاہدین سے قریبی تعلق تھا۔

ابتداء میں یہ اپنے علاقے میں بیت اللہ محسود کے نمائندے سمجھے جاتے تھے لیکن تحریک طالبان کے اندر اختلافات کے باعث الگ ہو کر حافظ گل بہادر کے ساتھ مل گئے اور اب افغان طالبان کے امیر ملا محمد عمر کو اپنا رہنما قرار دیتے تھے۔

حال ہی میں وہ وانا میں ایک خودکش حملے میں زخمی بھی ہوئے تھے۔

اس سے قبل دو مرتبہ ملا نذیر کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔پہلا حملہ فروری دو ہزار آٹھ میں مولانا ہارون وزیر کے گھر پر ہوا تھا جس میں ملا نذیر زخمی ہوئے تھے۔ دوسرا ڈرون حملہ اعظم ورسک کے علاقے میں ان کی گاڑی پر ہوا تھا جس میں ان کے بھائی سمیت چار افراد مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔