ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ پیش کر دی گئی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 4 جنوری 2013 ,‭ 07:00 GMT 12:00 PST

اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد کے علاقے بلال ٹاؤن کے اس مکان میں ہلاک کیا گیا تھا

دو مئی دو ہزار گیارہ کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کی ہلاکت سے متعلق حقائق جاننے کے لیے قائم کیے گئے کمیشن نے اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دی ہے۔

ایبٹ آباد کمیشن کے چیئرمین ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال نے جمعرات کی شام وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے ملاقات میں انہیں یہ رپورٹ پیش کی۔

اس رپورٹ کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں اور نہ ہی سرکاری طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ آیا اسے عام کیا جائے گا یا نہیں۔

اس کمیشن کے ساتھ کام کرنے والے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ کمیشن کو اپنی سفارشات کو عام کرنے کا اختیار ہی نہیں۔

کمیشن کے سربراہ بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ اس رپورٹ کو حکومت کے حوالے کرنے کے بعد یہ اختیار حکومت کے پاس ہے کہ وہ اس رپورٹ کو عام کرتی ہے یا نہیں۔

اس رپورٹ کی تیاری کی خبریں چند ماہ سے گردش میں تھیں اور گزشتہ برس اکتوبر کے اواخر میں کمیشن کے ساتھ کام کرنے والے ایک اہلکار نے کو بتایا تھا کہ اس کمیشن نے اپنی سفارشات مرتب کرلی ہیں جنہیں انتہائی خفیہ رکھا جا رہا ہے۔

تین رکنی کمیشن نے اس رپورٹ پر ایک سال سے زائد عرصہ تک کام کیا اور رپورٹ کی تیاری میں سیاست دانوں، سکیورٹی فورسز، خفیہ اداروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ایک سو سے زائد افراد کے بیانات لیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔