’مسلح افواج ملک کو لاحق اصل خطرے کا ادراک کریں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 4 جنوری 2013 ,‭ 09:43 GMT 14:43 PST

دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے:راجہ پرویز اشرف

پاکستان کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے ملک کی تینوں مسلح افواج سے کہا ہے کہ وہ ملکی سلامتی کو لاحق اصل خطرات کا ادراک کرتے ہوئے اپنے نظریات (ڈاکٹرِن) کو از سرِ نو مرتب کریں۔

جمعہ کو اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ ملکی سلامتی کو اصل خطرہ ان غیر ریاستی عناصر سے ہے جو پاکستانی ریاست اور اس کے اداروں اور علامتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں کامیابی کے لیے حکمت عملی کی تبدیلی کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے مسلح افواج کو اپنے نظریات (ملٹری ڈاکٹرِن) کو از سر نو مرتب کرنا ہو گا۔‘

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا ایسی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے جہاں سکیورٹی اور سالمیت کے روایتی نظریات میں مسلسل تبدیلی آ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ جمہوری حکومت نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کو سیاسی ملکیت دی ہے اور سوات میں فوجی آپریشن سیاسی حکمتِ عملی اور جدید جنگ کے ملاپ کی بہترین مثال ہے۔

اعلیٰ ترین حکومتی عہدیدار کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی بری فوج نے انہی بنیادی خطوط کے پیش نظر اپنے نظریات (آرمی ڈاکٹرن) میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی کرتے ہوئے نیم روایتی جنگ کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔

شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں متوقع

"دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی اس کی تقریر سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان کی بری فوج کے بعد اب فضائیہ بھی اب اپنی ترجیحات میں تبدیلی لاتے ہوئے اپنے توجہ کا مرکز مشرقی سرحدوں کے بجائے مغربی سرحد اور اس سے ملحقہ علاقوں کی جانب کرے گی جہاں شدت پسندوں کے خلاف اب مزید مربوط کارروائیاں متوقع ہیں۔"

پاکستانی فوج کی جانب سے شائع کردہ نئے فوجی نظریے یا ’آرمی ڈاکٹرن‘ میں ملک کی مغربی سرحدوں اور قبائلی علاقوں میں جاری گوریلا کارروائیوں اور بعض تنظیموں کی جانب سے اداروں اور شہریوں پر بم حملوں کو ملکی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

تاہم ایک اہم فوجی افسر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی اس کی تقریر میں مخاطب صرف بری نہیں بلکہ مسلح افواج تھیں جن میں فضائی اور بحری افواج بھی شامل ہیں۔

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں اس تقریب کے احوال سے واقف ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیراعظم کی تقریر کے بعد سوال و جواب کی نشست میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ پاکستان کی فضائی افواج نے قبائلی علاقوں میں ملکی اور غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف بہت بڑی کارروائیاں کی ہیں۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ دراصل پاکستانی فضائیہ نے قبائلی علاقوں میں جو کارروائیاں کی ہیں وہ فضائیہ کی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کارروائیوں کے دوران جس بڑی مقدار میں پاکستانی فضائیہ کے اثاثے استعمال ہوئے اس کی مثال کسی جنگ میں بھی نہیں ملتی۔

دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جمعہ کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں تقریر سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان کی بری فوج کے بعد اب فضائیہ بھی اب اپنی ترجیحات میں تبدیلی لاتے ہوئے اپنے توجہ کا مرکز مشرقی سرحدوں کے بجائے مغربی سرحد اور اس سے ملحقہ علاقوں کی جانب کرے گی جہاں شدت پسندوں کے خلاف اب مزید مربوط کارروائیاں متوقع ہیں۔

پاکستانی فضائیہ سے منسلک ایک تھنک ٹینک سینٹر فار ایئر پاور سٹڈیز کے سربراہ ایئر کموڈور ریٹائرڈ جمال حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستانی فضائیہ کی قیادت پہلے ہی ان خطوط پر سوچ رہی ہے اور بہت جلد اپنے نئے ڈاکٹرن میں بنیادی تبدیلیاں کرے گی۔

’کافی دنوں سے اس موضوع پر فضائیہ میں بحث چل رہی ہے اور ہمارے ادارے کے علاوہ فضائیہ کے بعض دیگر ادارے بھی نئے ڈاکٹرن پر کام کر رہے ہیں جس کا محور مغربی سرحد اور اس سے ملحق علاقوں میں موجود خطرات ہیں‘۔

ائیر کموڈور ریٹائرڈ جمال حسین نے کہا’ہم ابھی تک مشرقی سرحد یعنی بھارت سے لاحق خطرات کو پوری طرح نظرانداز نہیں کر سکے ہیں لیکن ہماری مجموعی سوچ یہی ہے کہ جو نیم روایتی خطرات ملک کو لاحق ہیں وہ زیادہ بڑا خطرہ ہیں اس لیے ہمیں ان پر زیادہ توجہ مرکوز کرنی ہو گی‘۔

کموڈور ریٹائرڈ جمال حسین کے مطابق اسی بنا پر فضائیہ کی قیادت نے اپنے نظریات (ڈاکٹرن) میں تبدیلی کی فیصلہ کیا ہے اور بہت جلد نئی ترجیحات کی بنیاد پر نئے ڈاکٹرن پر بہت جلد کام شروع کر دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ یہ تھنک ٹینک فضائیہ کا حصہ نہیں ہے لیکن اسے پاکستانی فضائیہ کے سربراہ کے مشیر کی حیثیت حاصل ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔