نگران وزیراعظم، اچکزئی بظاہر اولین ترجیح

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 5 جنوری 2013 ,‭ 16:07 GMT 21:07 PST

محمود خان اچکزئی پاکستان میں چھوٹی قومیتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہے

پاکستان میں سرکاری طور پر نگران وزیراعظم کے بارے میں تاحال تو کوئی بھی کچھ بتانے کو تیار نہیں ہے لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پشتون قوم پرست رہنما محمود خان اچکزئی فریقین کی اولین ترجیح بنتے جا رہے ہیں۔

محمود خان اچکزئی سے قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) نے کچھ ہفتے قبل رابطہ کیا تھا اور انہیں اپنی جانب سے نگران وزیراعظم نامزد کرنے کی پیشکش کی تھی لیکن انہوں نے معذرت کر لی تھی۔ لیکن اب انہوں نے جس طرح اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیاں شروع کی ہیں اس سے لگتا ہے کہ انہوں نے اپنا ذہن تبدیل کیا ہے۔

محمود خان اچکزئی کی مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف سے بات چیت اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے ملاقات کے بعد ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ محمود خان اچکزئی نگران وزیراعظم کے امیدواروں کی لسٹ میں سر فہرست آ گئے ہیں۔

آئین میں بیسویں ترمیم کے بعد یہ لازم ہے کہ حکومت اور حزب مخالف کےاتفاق رائے سے نگران وزیراعظم بنے گا اور جو بھی اس عہدے پر فائز ہوگا وہ یا ان کا کوئی اہل خانہ کا رکن نو منتخب اسمبلی کی مدت تک انتخاب میں حصہ نہیں لے سکے گا۔

یہی وجہ تھی کہ اب تک کوئی سیاسی شخصیت نگران وزیراعظم کے لیے رضا مند نہیں ہو رہی تھی۔ لیکن اس بارے میں جب محمود خان اچکزئی سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ ’ایسی بات نہیں ہے جمہوریت کی خاطر کوئی بھی قربانی دے سکتا ہے‘۔

خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات میں جب ان سے پوچھا کہ کیا آپ قربانی دینے کو تیار ہیں تو وہ زیر لب مسکرائے اور کہا اب ان سے کسی نے بھی اس بارے میں بات نہیں کی۔ جب ان سے کہا کہ وہ میاں نواز شریف سے رابطے کے بعد وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے ملے ہیں اور اپنی موجودگی میں وزیراعظم کی میاں نواز شریف اور دیگر رہنماؤں سے بات بھی کروائی۔۔۔ آپ نے تو پُل کا کام شروع کردیا ہے؟

جس پر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ’میں پُل تو نہیں ہوں۔۔۔ میں مشکور ان کا۔۔۔ میرے دوست ہیں سارے۔۔۔میں نے میاں صاحب کو دو تین دن پہلے فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ بھی ان ہی لائنز پر سوچ رہے ہیں تو مجھے بڑا اچھا لگا کہ وہ بھی ان ہی لائنز پر سوچ رہے ہیں۔۔۔پھر کل انہوں نے بات کی کہ ہماری پارٹی کی میٹنگ ہوئی تو اس میں بھی انہوں نے کہا کہ ان کا نکتہ نظر واضح ہے‘۔

"میں پُل تو نہیں ہوں۔۔۔ میں مشکور ان کا۔۔۔ میرے دوست ہیں سارے۔۔۔میں نے میاں صاحب کو دو تین دن پہلے فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ بھی ان ہی لائنز پر سوچ رہے ہیں تو مجھے بڑا اچھا لگا کہ وہ بھی ان ہی لائنز پر سوچ رہے ہیں۔۔۔پھر کل انہوں نے بات کی کہ ہماری پارٹی کی میٹنگ ہوئی تو اس میں بھی انہوں نے کہا کہ ان کا نکتہ نظر واضح ہے"

محمود خان اچکزئی

اس بارے میں رابطہ کرنے پر مسلم لیگ (ن) کے ترجمان سینیٹر سید مشاہد اللہ خان نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اچھے آدمی ہیں اور مثبت شخصیت ہیں اور ان پر ان کی جماعت کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

بعض سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ محمود خان اچکزئی جنہیں اپنے سیاسی نظریات کی وجہ سے اقتدار کے اصل مالک ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھتے رہے ہیں، عمر کے اس حصے میں ان کے لیے یہ بہت بڑے اعزاز کی بات ہوگی کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کے متفقہ نگران وزیراعظم بنیں۔

محمود خان اچکزئی کے والد عبدالصمد خان اچکزئی انگریز سرکار کے خلاف لڑتے رہے اور محمود خان اچکزئی پاکستان میں چھوٹی قومیتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہے۔ ان کی اپنی سیاست بلوچستان کے شمالی پشتون بیلٹ تک محدود ہے۔

اپنی سیاسی استطاعت کی بنا پر تو وہ شاید ہی کبھی وزیراعظم بن پائیں لیکن سیاست میں انہوں نے اپنے کردار کی وجہ سے جو نام کمایا ہے وہ شاید وزیراعظم کے عہدے سے بھی بڑا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ صدر آصف علی زرداری ہوں یا میاں نواز شریف، اسفند یار ولی ہوں یا عمران خان، مولانا فضل الرحمٰن ہوں یا منور حسن محمو خان ہوں اچکزئی کی شخصیت سب کے لیے قابل قبول ہے۔

ہوسکتا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ یا کوئی بلوچ قوم پرست رہنما اس بارے میں تحفظات رکھتے ہوں لیکن جب بڑے ’سٹیک ہولڈر‘ راضی ہوں تو پھر کام چل سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل مسلم لیگ (ن) نے سپریم کورٹ کے تین ریٹائرڈ ججوں کے نام حکومت کو نگران وزیراعظم کے لیے پیش کیے تھے۔

جس میں اگر کسی نام پر حکومت اتفاق کر سکتی تھی تو وہ جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد تھے۔ مقامی ذرائع ابلاغ میں عاصمہ جہانگیر کا نام بھی نگران وزیراعظم کے لیے تواتر سے لیا جاتا رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔