بلوچستان: ایکسپریس ٹرین پر فائرنگ، 3 ہلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 5 جنوری 2013 ,‭ 18:38 GMT 23:38 PST

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ریلوے حکام کے مطابق جعفر ایکپسریس ٹرین پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک سکیورٹی اہلکار سمیت تین افراد ہلاک اور انیس زخمی ہو گئے ہیں۔

دریں اثناء بلوچستان کے علاقے پنجگور میں تشدد کے ایک واقعے میں ایک سرکاری افسر اور ان کے بیٹے ہلاک ہو گئے جبکہ تریب سے ایک لاش برآمد ہوئی ہے۔

پاکستان ریلوے کے کوئٹہ ڈویژن کے چیف کنٹرولر محمد کاشف کے مطابق صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی سے کوئٹہ آنے والے مسافر ٹرین پر سبی اور مچھ کے درمیان پنیر کے علاقے پہاڑیوں سے نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ۔

اسسٹنٹ کمشنر مچھ کاشف بنی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ٹرین پر فائرنگ کے واقعے میں ایف سی کے ایک اہلکار سمیت تین افراد ہلاک اور ستائیس کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر کاشف بنی کے مطابق جس جگہ فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے اس کے قریب ایف سی کی ایک چوکی ہے اور فائرنگ کے بعد نامعلوم مسلح حملہ آوروں اور ایف سی کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔

بولان کے علاقے کا شمار بھی بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ بدامنی سے متاثر ہیں۔

صوبے میں سال دو ہزار کے بعد سے سبی اور کوئٹہ کے درمیان واقع درہ بولان میں ٹرینوں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔

سکیورٹی کی خراب صورتحال کی وجہ سے اکثر اوقات ٹرینوں کو دن کی روشنی میں درہ بولان سے گزارا جاتا ہے۔

ُادھر سرکاری افسر اور ان کے بیٹے کی ہلاکت کا واقعہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے تقرباً پانچ سو کلومیٹر دور پنجگور کے علاقے میں پیش آیا۔

مقامی پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں محکمہء سول ورکس کے انجینیئر محمد یوسف اور ان کا بیٹا ہلاک جبکہ ان کی ایک بیٹی زخمی ہوگئی۔

دوسری جانب تربت کے علاقے دشت کڈان میں ایک نوجوانوں کی لاش برآمد ہوئی ہے جس کی شناخت میر جان کے نام سے ہوئی ہے۔

تربت میں لیویز فورس کے مطابق لاش چار سے پانچ روز پرانی ہے۔

واضح رہے کہ سال دوہزار بارہ میں بلوچستان میں امن وامان کے حوالے سے کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی بلکہ ٹارگٹ کلنگ اور اغواء برائِے تاؤان کی وارداتوں میں اضافہ ہوا۔ اسی دوران سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کے مقدمے میں صوبائی حکومت کو غیر آئنیی بھی قرار دے دیا جبکہ صحافیوں کے لیے کام کرنے میں مشکلات میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ خضدار اور پنجگور پریس کلب بھی بند ہوگئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔