قاضی حسین احمد کی زندگی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 6 جنوری 2013 ,‭ 22:21 GMT 03:21 PST
قاضی حسین احمد

قاضی حسین احمدکے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

قاضی حسین احمد 1938ء میں ضلع نوشہرہ (صوبہ خیبر پختون خوا) کے گاؤں زیارت کاکا صاحب میں پیدا ہوئے اور اپنے دس بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر پر اپنے والد مولانا قاضی محمد عبدالرب سے حاصل کی پھر اسلامیہ کالج پشاور سے گریجویشن کے بعد پشاور یونیورسٹی سے جغرافیہ میں ایم ایس سی کی۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد جہانزیب کالج سیدو شریف میں بحیثیت لیکچرار تین برس تک پڑھاتے رہے۔ اس کے بعد ملازمت جاری نہ رکھ سکے اور پشاور میں اپنا کاروبار شروع کردیا اور سرحد چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر منتخب ہوئے۔

دوران تعلیم اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان میں شامل رہنے کے بعد قاضی حسین 1970 میں جماعت اسلامی کے رکن بنے اور 1978 میں جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل بنے اور1987 میں جماعت اسلامی پاکستان امیر منتخب کر لیے گئے۔

اور چار مرتبہ امیرمنتخب ہوئے۔

قاضی حسین احمد 1985 ءمیں چھ سال کےلیے سینیٹ آف پاکستان کے ممبر منتخب ہوئے۔ 1992 ءمیں وہ دوبارہ سینیٹرمنتخب ہوئے تاہم انہوں نے حکومتی پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے بعد ازاں سینٹ سے استعفٰی دے دیا۔ 2002 کے عام انتخابات میں قاضی صاحب دو حلقوں سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

تحریک نظام مصطفٰی کے دوران گرفتاری کے علاوہ افغانستان پر امریکی حملوں اور یورپ میں پیغمبرِ اسلام کی شان میں گستاخی پر مبنی خاکوں پر احتجاج کے دوران انہیں گرفتار کیاگیا۔ دوران گرفتاری انہوں نے متعدداہم مقالہ جات لکھے، جو بعد میں کتابی صورت میں شائع ہوئے۔

قاضی حسین احمدکے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

قاضی صاحب کو اپنی مادری زبان پشتو کے علاوہ اردو،انگریزی،عربی اور فارسی پر عبور حاصل تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔