وزیرستان: مُلا نذیر کی ہلاکت کے خلاف احتجاج

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 5 جنوری 2013 ,‭ 14:16 GMT 19:16 PST

مُلا نذیر کو ’پاکستان دوست‘ طالبان میں شمار کیا جاتا تھا

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں طالبان کمانڈر مُلا نذیر کی امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں ہلاکت کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا ہے جس میں قبائلی عمائدین، علماء اور عام شہریوں نے شرکت کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سنیچر کو جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں یہ احتجاجی مظاہرہ ہوا۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مظاہرے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ہے جس میں سرکردہ قبائلی سرداروں کے علاوہ علماء اور عام شہری بھی شامل تھے۔

انھوں نے کہا کہ مظاہرے کے دوران وانا بازار مکمل طور پر بند تھا اور مظاہرین وانا سے ہوتے ہوئے اعظم ورسک کے قریب شین ورسک کے علاقے میں جمع ہوئے اور بعد میں لوگ پُرامن طور منتشر ہوگئے۔

اطلاعات کے مطابق جلسے سے ملک دوست محمد، ملک محب سمیت چند اہم قبائلی عمائدین نے خطاب کیا ہے۔

مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ کسی صورت بھی وانا میں امن و امان کو خراب کرنے نہیں دیا جائے گا اور امریکہ نے ان پر ڈرون حملہ کر کے دہشت گردی کی ہے۔

احتجاجی جلسے کے آخر میں ایک قرار داد منظور کی جس میں اقوام متحدہ سے اپیل کی گئی ہے کہ اس واقعے کے بعد امریکہ کو ایک دہشت گرد مُلک قرار دیا جائے۔

قرارداد میں اقوام متحدہ اور عالمی تنظمیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ قبائلی علاقوں خاص کر شمالی و جنوبی وزیرستان میں جاری غیر قانونی اور غیر انسانی ڈرون حملے بند کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اُٹھائیں۔

قرارداد میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ وانا میں تعینات فوج میں کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جو مبینہ طور پر وانا کے امن اور قبائلی روایات کے خلاف اقدامات اُٹھاتے ہیں۔

انھوں نےآرمی چیف، کور کمانڈر اور گورنر خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا کہ وہ ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔