’انہیں خسارے میں ہی رہنے دیں‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 6 جنوری 2013 ,‭ 15:42 GMT 20:42 PST

گذشتہ موسمِ گرما میں جب یو ٹیوب پر ایک متنازع توہینِ آمیز فلم نے دنیا بھر میں مسلمانوں کو مشتعل کردیا تو چند حکومتوں نے لوگوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے یو ٹیوب پر عارضی پابندی عائد کردی تھی۔

کچھ عرصے بعد بہت سے ممالک نے اس فلم تک رسائی بلاک کرنے کے بعد باقی یو ٹیوب بحال کردی ۔ آج سوائے پاکستان کے ہر مسلمان ملک میں یو ٹیوب دیکھی جاسکتی ہے البتہ حکومتِ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ صرف متنازع فلم کا صفحہ بلاک کرنا ہی کافی نہیں، جب تک فلم ہٹائی نہیں جاتی تب تک یو ٹیوب ہی پلید ہے۔

معاملہ صرف یو ٹیوب کے بارے میں سرکاری سوچ کا نہیں۔ دیکھا جائے تو سرکار کی کسی بھی معاملے میں واضح اور دوٹوک سوچ نہیں اور یہ حالت کئی برس سے بلا روک ٹوک جاری اس عمل کی عکاس ہے جس کے تحت ریاستی ایجنڈہ سیاسی و اقتصادی مافیا اور شدت پسند غیر ریاستی عناصر طے کر رہے ہیں۔ ریاست شعوری و لاشعوری طور پر ان کے مفاداتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں بادلِ نخواستہ معاون بن رہی ہے۔ یہ معاونت کبھی دوغلے پن کی شکل میں سامنے آتی ہے تو کبھی خاموشی کی صورت میں تو کبھی بے حسی کو چھوتی لاتعلقی کے لبادے میں۔

سرکار کی سوچ واضح نہیں

معاملہ صرف یو ٹیوب کے بارے میں سرکاری سوچ کا نہیں۔ دیکھا جائے تو سرکار کی کسی بھی معاملے میں واضح اور دوٹوک سوچ نہیں اور یہ حالت کئی برس سے بلاروک ٹوک جاری اس عمل کی عکاس ہے جس کے تحت ریاستی ایجنڈہ سیاسی و اقتصادی مافیا اور شدت پسند غیر ریاستی عناصر طے کر رہے ہیں اور ریاست شعوری و لاشعوری طور پر ان کے مفاداتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں بادلِ نخواستہ معاون بن رہی ہے۔ یہ معاونت کبھی دوغلے پن کی شکل میں سامنے آتی ہے تو کبھی خاموشی کی صورت میں تو کبھی بے حسی کو چھوتی لاتعلقی کے لبادے میں۔

مثال کے طور پر پولیو کے قطرے اگر واقعی مسلمانوں کے خلاف ایک عالمی سازش ہے تو کم ازکم ایران اور سعودی عرب کو قطعاً پولیو فری ممالک نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن یہ عالمی سازش اب تک صرف ان تین مسلمان ممالک میں ہی کامیاب ہو سکی جہاں نان سٹیٹ ایکٹرز کرپٹ اور کمزور حکومتوں کے منہ میں اپنا ایجنڈہ ٹھونسنے کے قابل ہیں۔

نائجیریا جہاں بوکو حرام ( مغربی تعلیم حرام ہے ) نامی تنظیم بد عقیدہ لوگوں کے گلے کاٹ رہی ہے اور پاکستان و افغانستان جہاں حکومتی رٹ ایک بڑے علاقے سے عرصہ پہلے بے دخل ہوچکی۔ پاکستان میں پولیو کے نو رضاکاروں کی حالیہ ہلاکت کے نتیجے میں مہم معطل ہونے کے بعد اب بے چاری حکومت کے پاس خوش ہونے اور کرنے کے لیے بس یہی خبر ہے کہ پاکستان اور بھارت ون ڈے کرکٹ سیریز کے آخری میچ کو پولیو کے خلاف مہم سے معنون کردیا گیا۔

جوابی حکمتِ عملی سے عاری خوفزدہ سماج میں نوبت با ایں جا رسید کہ میڈیا، حکومت اور این جی اوز ویکسینیشن کے لفظ کے استعمال میں بھی احتیاط برتنے لگے ہیں۔ پولیو ویکسینیشن تو رہی ایک طرف، خسرہ کی ویکسینیشن بھی مارے خوف کے شک اور ہچکچاہٹ کے دائرے میں آگئی ہے۔ بالائی سندھ کے چار اضلاع میں تین سو کے لگ بھگ بچے گذشتہ دو ماہ میں خسرہ کے ہاتھوں مرچکے ہیں جبکہ ان اضلاع میں گذشتہ برس خسرہ سے صرف پچھتر اموات ہوئی تھیں۔

پاکستان کے بہت سے علاقوں میں آج بھی لڑکیوں کی تعلیم اتنی ہی خطرناک ہے جتنی پولیو ویکسنیشن ۔جن علاقوں میں حکومتی رٹ نہیں وہاں لڑکیوں کی تعلیم بھی نہیں مگر سوات جیسے علاقے جہاں حکومتی رٹ بظاہر پوری طرح بحال ہے وہاں جو سکول دورانِ شورش برباد ہوئے وہ تو ہوئے لیکن بیسیوں سکول عسکری و نیم عسکری اداروں کے رہائشی و دفتری قبضے میں ہونے کے سبب اب تک بند ہیں۔

ملک کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں حکومتی عملداری کو کوئی مسلح چیلنج درپیش نہیں۔سکولوں کی عمارتیں بھی سلامت ہیں مگر وہاں لڑکیاں تو کجا لڑکے تک نہیں پڑھ سکتے۔کس میں اتنی ہمت ہے بھلا کہ ان عمارتوں میں بنے اوطاقوں، جانوروں کے باڑوں اور منشیات پینے والوں کی آماجگاہوں کو ختم کرسکے۔

تو کیا یہ ممکن ہے کہ جن نان سٹیٹ ایکٹرز کو بچوں کو جسمانی معذوری سے بچانے والے پولیو قطرے دراصل ثقافتی و مذہبی اقدار دشمن سازشی تیزابی قطرے دکھائی دیتے ہیں وہ اپنے بچوں کو نہ سہی مگر دیگر لاکھوں بچوں کے والدین کو تو بلا خوف و خطر اپاہج ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنے میں آزاد چھوڑ دیں؟

ویسے بھی اگر بریلوی، شیعہ، احمدی، ہندو، عیسائی، مغرب زدہ، آزاد خیال، سیکولر، لبرل فاشسٹ اپنے بچوں کو پولیو قطرے پلا کر جسمانی نامرد کرنے کی سازش کا لقمہ بنانا چاہ رہے ہیں اور اپنی بچیوں کو سکول بھیج کر اپنی اور اپنی نسلوں کی دینی و دنیاوی تباہی پر کمر بستہ ہیں تو آپ کا کیا نقصان ہے۔

جو کام آپ ان گمراہ طبقات کو راہِ راست پر لانے یا پھر مٹانے کے لیے بم اور کلاشنکوف سے لینا چاہ رہے ہیں وہی کام اگر پولیو ویکسین اور لڑکیوں کی تعلیم آپ کے لیے کردے تو آپ کا کیا جاتا ہے۔ آم کے آم گٹھلیوں کے دام نہیں کیا ؟؟؟

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔