کوئٹہ: تشدد کے واقعات میں تین افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  منگل 8 جنوری 2013 ,‭ 02:14 GMT 07:14 PST

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں تشدد کے تین مختلف واقعات میں تین افراد ہلاک چھ زخمی ہو گئے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق پیر کی شام کو کوئٹہ سریاب روڑ پر ایک دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور ایک پولیس اہلکار سمیت تین زخمی ہو گئے۔

پولیس نے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت بلوچستان ڈولپمنٹ اتھارٹی کے سب انجینیئر نذیر احمد قمبرانی کے طور پر کی ہے۔

زخمی ہونے والوں میں پولیس کے ایک سب انسپکٹر بھی شامل ہیں۔

سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کی دی ہیں۔

اس سے پہلے پیر کو کوئٹہ شہر میں تشدد کے دو مخلتف واقعات میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

پیر کو شہر کی فاطمہ جناح روڑ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ٹریول ایجنسی میں کام کرنے والا شخص ہلاک ہو گیا۔

سپنی روڑ پر پیش آنے والے دوسرے واقعے میں نامعلوم موٹر سائیکل سوار مسلح افراد کی ایک گاڑی پر فائرنگ سے ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والا شخص ہلاک اور تین افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس نے سپنی روڑ پر پیش آنے والے واقعہ کو فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ قرار دیا۔

واضح رہے کہ سال دوہزار بارہ میں بلوچستان میں امن وامان کے حوالے سے کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی بلکہ ٹارگٹ کلنگ اور اغواء برائِے تاؤان کی وارداتوں میں اضافہ ہوا۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔