شاہ زیب کیس:’مرکزی ملزم تین دن میں گرفتار کریں‘

آخری وقت اشاعت:  پير 7 جنوری 2013 ,‭ 12:52 GMT 17:52 PST

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ پولیس نے جان بوجھ کر اس مقدمے کو خراب کیا۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے شاہ زیب قتل سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران سندھ پولیس کو مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے مزید تین دن کی مہلت دے دی ہے۔

ادھر کراچی میں پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کا دس روزہ ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔

اسلام آباد میں پیر کو معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پولیس نے جان بوجھ کر اس مقدمے کو خراب کیا ہے۔

انہوں نے سندھ پولیس کے سربراہ فیاض لغاری کو اس مقدمے کے ملزمان کو دس جنوری تک گرفتار کر کے عدالت میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے شاہ زیب قتل سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی تو عدالت میں پولیس کی جانب سے اس مقدے میں اب تک کی جانے والی تحقیقات سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی گئی۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مقدمے کا مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی بیرون ملک فرار ہوگیا ہے اور ڈی آئی جی ساؤتھ کراچی شاہد حیات نے عدالت کو بتایا کہ دبئی میں پاکستانی قونصل جنرل کے مطابق وہ ان دنوں دبئی میں ہے جس کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کیا جائے گا۔

کراچی پولیس کے ترجمان ایس ایس پی عمران شوکت نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ پولیس نے ڈی آئی جی کی سربراہی میں ایک ٹیم تیار کی ہے جو پیر کی رات دبئی روانہ ہو رہی ہے اور اس سلسلے میں دبئی میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن کے افسران دبئی پولیس سے میں رابطے میں ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق عمران شوکت نے کہا کہ ملزم شاہ رخ جتوئی کے پاسپورٹ کی نقل پولیس کو مل گئی ہے جس کے مطابق وہ دبئی میں ستائیس دسمبر کو داخل ہوئے ہیں اور ان کے دبئی سے باہر جانے کے اب تک کوئی واضح ثبوت نہیں ہیں جس کے بعد اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ ملزم اب تک دبئی میں موجود ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملزم کا نام ای سی ایل میں ہونے کے باوجود وہ کیسے بیرون ملک فرار ہوگیا۔

" پولیس نے ڈی آئی جی کی سربراہی میں ایک ٹیم تیار کی ہے جو پیر کی رات دبئی روانہ ہو رہی ہے اور اس سلسلے میں دبئی میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن کے افسران دبئی پولیس سے میں رابطے میں ہیں۔۔۔ملزم شاہ رخ جتوئی کے پاسپورٹ کی نقل پولیس کو مل گئی ہے جس کے مطابق وہ دبئی میں ستائیس دسمبر کو داخل ہوئے ہیں اور ان کے دبئی سے باہر جانے کے اب تک کوئی واضح ثبوت نہیں ہیں جس کے بعد اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ ملزم اب تک دبئی میں موجود ہے۔"

عمران شوکت ، ترجمان کراچی پولیس

بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے ڈی آئی جی ساؤتھ کراچی شاہد حیات سے استفسار کیا کہ اُنہوں نے ملزم کا نام ای سی ایل میں کب ڈالا جس میں اُنہوں نے بتایا کہ اٹھائیس دسمبر کو شاہ رخ جتوئی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے کہا گیا تھا جبکہ دو جنوری کو اُس کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا۔

اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ درخواست اُس وقت بھجوائی گئی جب ملزم بیرون ملک فرار ہوگیا تھا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پولیس بااثر افراد کے ہاتھوں بےبس ہے۔ اُنہوں نے پولیس افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں کی قدر کرنا سکھیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر تین روز کے اندر اندر ملزمان گرفتار نہ ہوئے تو اس کی تمام تر ذمہ داری سندھ پولیس کے سربراہ فیاض لغاری پر ہوگی۔

ڈی آئی جی شاہد حیات نے عدالت سے استدعا کی کہ اُنہیں پندرہ روز کی مہلت دی جائے جسے عدالت نے مسترد کردیا۔

دریں اثناء پاکستان کے تجارتی شہر کراچی میں پولیس نے شاہ زیب قتل کیس میں مورو سے گرفتار کیے گئے مرکزی ملزم سراج تالپور ان کے بھائی سجاد تالپور اور ان کے ملازم غلام مصطفٰی لاشاری کو پیر کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا۔

پولیس نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ملزمان شاہ زیب قتل کیس میں ملوث ہیں اور ان سے مزید تفتیش کے لیے انہیں ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیا جائے۔

کراچی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مقتول شاہ زیب کے والد ڈی ایس پی اورنگزیب نے ایک درخواست دی ہے جس میں انہوں نے سجاد تالپور اور دیگر کو ملزمان کے طور پر نامزد کیا جسے پہلے سے درج ایف آئی آر کا حصہ بنادیا گیا۔

پولیس ترجمان نے کہا کہ چونکہ یہ قتل سر عام لوگوں کے سامنے کیا گیا جس سے معاشرے میں دہشت پھیل گئی، اسی نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اس مقدمہ میں دہشت گردی کی دفعات کا اضافہ کیا گیا۔

ایس ایس پی عمران شوکت نے کہا کہ شاہ رخ جتوئی کے والد سکندر جتوئی کو بھی پولیس تلاش کررہی ہے کیونکہ انہوں نے ملزم کو پولیس کے حوالے نہ کر کے اور پولیس کو گمراہ کر کے ملزم کا ساتھ دیا جس کے باعث ان پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ایک سو نو کے تحت ملزم کی اعانت کا الزام ہے اور وہ پولیس کو مطلوب ہیں۔ سکندر جتوئی کا شمار ملک کے بڑے صنعت کاروں میں ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ سرکاری اور غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کراچی میں ساڑھے تئیس سو سے زائد افراد کو قتل کیا گیا۔ کراچی میں بدامنی کا ایک مقدمہ بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔