فاٹا: انتخابات اور سیاسی جماعتوں کے مطالبات

آخری وقت اشاعت:  منگل 8 جنوری 2013 ,‭ 13:58 GMT 18:58 PST

صدر آصف علی زرداری نے دو ہزار گیارہ میں تمام سیاسی جماعتوں کو قبائلی علاقوں میں سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دی تھی

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے سنہ دو ہزار گیارہ میں تمام سیاسی جماعتوں کو قبائلی علاقوں میں سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دے تو دی لیکن ڈیڑھ سال گزر جانے کے بعد بھی صدر اور وزیر اعظم سے لے کر اکثر بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس علاقے کا دورہ نہیں کیا ہے۔

ادھر پاکستان کی دس سیاسی جماعتوں نے قبائلی علاقوں میں انتخابات سے قبل پانچ اہم اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان میں عام انتخابات کی آمد آمد ہے اور اس سے جُڑی انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں لیکن بظاہر قبائلی علاقوں میں ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ تمام سیاسی جماعتیں کھل کر قبائلی علاقوں میں انتخابات میں حصہ لے سکیں گیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ موجودہ حکومت کے ساڑھے چار سالوں کے دوران نہ تو صدر، نہ کوئی وزیر اعظم قبائلی علاقے جاسکا ہے اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر سے پابندی اٹھنے کے باوجود کسی بڑی سیاسی جماعت کا رہنما وہاں گیا ہے۔

پاکستان کی مذہبی جماعتیں جعمیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی پابندی کے دوران بھی اور اب بھی وہاں کافی سرگرم ہیں۔

اب دس سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک کمیٹی نے حکومت سے قبائلی علاقوں میں ووٹروں کے کمپوٹرائزڈ اندراج، نقل مکانی پر مجبور ڈیڑھ لاکھ قبائلیوں کے ووٹ کو یقینی بنانے، ملک کے دیگر حصوں کے طرح قبائلی علاقوں میں بھی عدلیہ کے اہلکاروں کو تعینات کرنے، قبائلی ووٹروں کو گھر کے قریب پولنگ سٹیشن فراہم کرنے اور انتخابی کمیشن سے براہ راست سیاسی جماعتوں سے رابطے کرنے کا مطالبات کیے ہیں۔

مسلم لیگ ق کے سینیئر نائب صدر اجمل خان وزیر جن کا تعلق قبائلی علاقوں سے ہے اس کمیٹی کے رکن تھے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا کہ سیاسی قائدین نے ابھی تک قبائلی علاقوں میں جاننے کی کوشش ہی نہیں کی ہے ان کا کہنا ہے کہ ’یہ دورے ہونے چاہیں ورنہ بہت دیر ہو جائے گی‘۔

اجمل خان وزیر کا اِن مطالبات کی وضاحت میں کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں تمام ووٹروں کا شفاف اندراج ہوا ہی نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ایک امیدوار پانچ تو دوسرا سات ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہو رہے تھے۔ ’ہم نے خواتین کے شناختی کارڈ بنانے اور ووٹ کے اندراج کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے‘۔

قبائلی علاقوں سے متعلق اس کمیٹی میں عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی، جعمیت علمائے اسلام (فضل الرحمان)، متحدہ قومی مومنٹ، نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، مسلم لیگ (ق)، مسلم لیگ (ن) اور قومی وطن پارٹی کو نمائندگی حاصل تھی۔

ان جماعتوں کے خیال میں انتخابی کمیشن کو ان اصلاحات پر فوری طور پر عمل درآمد کروانا ہوگا ورنہ قبائلی علاقوں میں صاف، شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات کا انعقاد مشکل ہوگا۔

کمیٹی نے یہ سفارشات فوری عمل درآمد کے لیے انتخابی کمیشن، صدر اور گورنر خیبر پختونخوا کو ارسال کر دی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔