ایجنسیوں کو انسانی حقوق کی تربیت دینے کی تجویز

آخری وقت اشاعت:  منگل 8 جنوری 2013 ,‭ 16:37 GMT 21:37 PST
لاپتہ افراد کے رشتہ دار

حکومت کو کہا گیا ہے کہ وہ لاپتہ افراد اور ان کے اہلِخانہ کی بحالی کے لیے اقدامات اٹھائے

پاکستان میں قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے کے لیے اپنی سفارشات مرتب کر لی ہیں اور تجویز کیا ہے کہ انٹیلیجنس اور سکیورٹی ایجنسیوں کو ضابطے میں لایا جائے اور ان کی پارلیمانی نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔

سفارشات میں کہا گیا ہے کہ انٹیلیجنس اور سکیورٹی ایجنسیوں کو پابند بنایا جائے کہ وہ کسی بھی گرفتار شخص کو چوبیس گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کریں اور ایسا نہ کرنے والے افسر کو سزا دی جائے۔

میاں رضا ربانی کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے پندرہ نکات پر مشتمل جو سفارشات مرتب کیں وہ وزیراعظم کو بھیج دی گئی ہیں اور اب یہ تجاویز قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش ہوں گی۔

کمیٹی کے ایک سرکردہ رکن میر حاصل بزنجو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے اور اب حکومت کا کام ہے کہ وہ قانون سازی کرے اور اس پر عملدرآمد کرائے۔

انہوں نے کہا ’میں سمجھتا ہوں کہ اگر کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تو لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہوجائے گا‘۔

کمیٹی نے متفقہ طور پر تیار کردہ سفارشات میں کہا ہے کہ انٹیلیجنس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے تربیتی نصاب میں انسانی حقوق کو شامل کیا جائے تاکہ انہیں انسانی حقوق اور اس بارے میں ملکی و عالمی قوانین سے آگاہ کیا جاسکے۔

"میں سمجھتا ہوں کہ اگر کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تو لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہوجائے گا"

حاصل بزنجو

سفارشات میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ اہلکار کوگرفتار شخص کے خلاف تمام مقدمات کی تفصیل بتانی ہوگی۔ اگر اس شخص کی ضمانت ہوجائے تو انہیں پھر دوبارہ گرفتار نہیں کیا جاسکے گا۔

سفارشات میں کہا گیا ہے کہ لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں خصوصی بینچ تشکیل دیے جائیں جو تیزی سے مقدمات نمٹائیں اور لاپتہ افراد کے معاملات کی نگرانی کریں۔

سفارشات میں کہا گیا ہے کہ جو افسر متعلقہ شخص کو کسی عدالت میں پیش کرے تو اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ سفارشات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت لاپتہ افراد اور ان کے اہلخانہ کی بحالی کے لیے اقدامات اٹھائے۔

حکومت کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی قانون کے تحت گرفتار یا زیر حراست افراد کی کمپیوٹرائزڈ فہرست بنائے اور کسی بھی شخص کی حراست کے چوبیس گھنٹے کے اندر اس کا رجسٹر میں اندراج لازم ہوگا۔

کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ حکومت تشدد کے خلاف عالمی کنوینشن اور آئینِ پاکستان کی تمام شقوں پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔