پشاور میں پیپلز پارٹی کُرم ایجنسی کے صدر ہلاک

آخری وقت اشاعت:  بدھ 9 جنوری 2013 ,‭ 12:42 GMT 17:42 PST

ڈاکٹر ریاض حُسین پر حملہ ڈبگری گارڈن کے علاقے میں اس وقت ہوا جب وہ اپنی ذاتی گاڑی میں کلینک جارہے تھے۔ فائل فوٹو

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں نامعلوم افراد نے سابقہ ڈی آئی جی ارشاد حُسین کے بھائی اور کُرم ایجنسی میں پیپلز پارٹی کے صدر ڈاکٹر ریاض حسین کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔

پشاور میں پولیس کا کہناہے کہ بدھ کو پشاور شہر میں ڈبگری گارڈن کے علاقے میں ڈاکٹر ریاض حُسین کو نامعلوم افراد نے اس وقت فائرنگ کرکے ہلاک کردیا جب وہ اپنی ذاتی گاڑی میں کلینک جارہے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے اور فائرنگ کے بعد فرار ہونے کامیاب ہوگئے ہیں۔پولیس کے مطابق ان کو کئی گولیاں لگی ہیں۔

پولیس کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی لیکن ابھی تک کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور رپورٹ مکمل ہونے کے بعد معلوم ہوگا کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا ہے۔

پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق ابھی حملہ آوروں کی شناخت بھی نہیں ہوئی ہے۔

ڈاکٹر ریاض حُسین کُرم ایجنسی میں پیپلز پارٹی کے صدر تھے اور ان پر پہلے بھی دو دفعہ خودکش حملے ہوچکے ہیں۔دو ہزار آٹھ کی انتخابی مُہم کے دوران کُرم ایجنسی میں ان کے دفتر کے سامنے ایک خودکش حملہ ہوا تھا جس ساٹھ سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ دو سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

ڈاکٹر ریاض حُسین کے ایک بھائی ارشاد حُسین سابقہ ڈی آئی جی پولیس ہیں اور ایک بھائی سید قیصر حُسین فوج میں ایئر مارشل رہ چکے ہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔