’جناح کے پاس برطانوی پاسپورٹ تھا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 11 جنوری 2013 ,‭ 00:38 GMT 05:38 PST

پاکستان میں حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے اپنی برطانوی شہریت کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پاکستان محمد علی جناح برطانوی سلطنت کے وفادار تھے اور انہوں نے گورنر جنرل کی حیثیت سے جو حلف لیا وہ برطانیہ سے وفاداری کا تھا۔

جمعرات کو الطاف حسین یہ بات کراچی میں لال قلعہ گراوُنڈ میں اپنے اعلان کردہ ’سیاسی ڈرون حملے‘ کے سلسلے میں ٹیلی فونک خطاب کے دوران کہی۔

الطاف حسین کا کہنا تھا ان کے سیاسی ڈرون حملے کے اعلان نے ملک میں مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیا جن میں حکومت سے علیحدگی، تحریک منہاج القرآن کے طاہر القادری کے لانگ مارچ سے علیحدگی اور برطانوی شہریت ترک کرنا شامل ہیں۔

کلِک جناح نہیں گاندھی بھی برطانوی شہری تھے!!!

انہوں نے کہا کہ وہ اب تک حکومت میں ہی شامل ہیں اور علامہ طاہرالقادری کے لانگ مارچ میں بھی ہر صورت شرکت کی جائے گی۔

کراچی میں بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق ایم کیو ایم کے سربراہ نے کہا کہ ان کی اور علامہ طاہر القادری کی دہری شہریت پر پر ان کی ملک سے وفاداری کو مشکوک قرار دیا جا رہا ہے، جب نواز لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف آٹھ سال تک سعودیہ عرب میں رہیں تو وہ وفادار مگر ہماری حب الوطنی مشکوک کیوں؟ الطاف حسین نے کہا کہ کہ انہوں نے اپنی جان بچانے اور اپنے مشن کو جاری رکھنے کے لیے مجبوری کے عالم میں برطانیہ کی شہریت حاصل کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ڈپلو میٹک پاسپورٹ نہیں ہے۔ الطاف حسین نے کہا کہ وہ ثابت کر سکتے ہیں کہ محمد علی جناح کے پاس برطانوی پاسپورٹ تھا جبکہ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے انہوں نے برطانیہ کے بادشاہ جارج ششم کی وفاداری کا حلف لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان انیس سو سینتالیس میں مکمل طور پر آزاد ہو گیا تھا تو پھر ملک کے بانی نے برطانیہ سے وفا داری کا حلف کیوں اٹھایا۔ ان تاریخی حقاُق کے ساتھ ایم کیو ایم کے سربراہ کے مطابق انہوں نے اب اپنا مقدمہ عوام کی عدالت میں پیش کر دیا۔

اس موقع پر انہوں نے لوکل باڈیز سسٹم کے خاتمے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس نظام کو کیو ختم کیا گیا، سندھی قوم پرستوں کی ناراضگی کا خوف ہے مگر اردو بولنے والے سندھیوں کی فکر نہیں ہے۔

الطاف حسین نے کہا کہ ان کی جماعت جمہوریت پسند ہے اور سندھ کی تقسیم نہیں چاہتی لیکن اگر لوکل باڈیز نظام نہیں دیا گیا تو اردو بولنے والے سندھی تقسیم کا نعرہ لگانے پر مجبور ہو جائیں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔