ایل او سی:حالات بدستور کشیدہ، فائرنگ کے الزامات

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 11 جنوری 2013 ,‭ 08:14 GMT 13:14 PST

لائن آف کنٹرول پر حالیہ کشیدگی کا آغاز چھ جنوری کو ہوا تھا

کشمیر کے متنازع علاقے کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر حالات بدستور کشیدہ ہیں اور بھارت نے پاکستان پر ایک مرتبہ پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

ادھر پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کر کے جمعرات کو مبینہ طور پر بھارتی فائرنگ سے ایک اور پاکستانی فوجی کی ہلاکت پر احتجاج کیا ہے۔

گزشتہ پانچ روز میں لائن آف کنٹرول پر ہونے والی جھڑپوں میں دونوں ملکوں کے چار فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

بھارتی فوج کے ترجمان کرنل جگدیپ دھائیا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج نے پونچھ کے مینڈھر سیکٹر میں جمعرات کی شام بھارتی چوکیوں پر فائرنگ کی ہے۔

ان کے مطابق سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کا یہ واقعہ شام ساڑھے چار بجے پیش آیا جس پر بھارتی فوج نے جوابی کارروائی کی اور فریقین میں فائرنگ کا تبادلہ ڈیڑھ گھنٹے سے زائد عرصے تک جاری رہا۔

بیان کے مطابق بھارتی حکام کو اس فائرنگ میں کسی پاکستانی کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔

ادھر پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق جمعہ کو پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر شرت سبروال کو دفترِ خارجہ طلب کر کے ایک دن قبل لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی فائرنگ پر شدید احتجاج کیا ہے۔

بیان کے مطابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے بھارتی فوج کے پاکستانی فوجیوں پر بارہا، ناقابلِ قبول اور بلااشتعال حملوں پر سخت احتجاج کیا۔ انہوں نے بھارتی حکام پر زور دیا کہ وہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوجیوں کی جانب سے سیزفائر کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور یقینی بنائیں کہ ایسا دوبارہ نہ ہو۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس قسم کے بلااشتعال حملوں سے نہ صرف امن عمل کی روح متاثر ہوگی اور یہ نہ صرف ماحول کی خرابی بلکہ غیر ضروری طور پر معاملے سے توجہ بٹانے کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

نومبر سنہ دو ہزار تین میں متنازع کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا جو اب تک قائم ہے۔

جمعرات کو پاکستانی افواج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ ایل او سی پر بٹال سیکٹر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک اور پاکستانی فوجی ہلاک ہوگیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ واقعہ پاکستانی وقت کے مطابق دو بج کر چالیس منٹ پر بٹال سیکٹر میں ایک چوکی کندی پر ہوا جہاں بلا اشتعال فائرنگ سے فوجی حوالدار محی الدین ہلاک ہوگئے۔

لائن آف کنٹرول پر حالیہ کشیدگی کا آغاز چھ جنوری کو ہوا تھا جب پاکستانی فوج کے مطابق بھارتی افواج نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باغ کے قریب حاجی پیر سیکٹر کے علاقے میں سواں پترا چوکی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں دو پاکستانی فوجی شدید زخمی ہوئے جن میں سے ایک بعد میں ہلاک ہو گیا۔

چھ جنوری کو ہونے والے حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے پاکستانی فوج کا نام لانس نائیک اسلم تھا جنہیں آٹھ جنوری کو چکوال کے نزدیک ان کے آبائی گاؤں خیر پور میں سپرد خاک کیا گیا تھا۔

اس بارے میں بھارتی فوج کے ایک ترجمان کرنل برجیش پانڈے نے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستانی افواج نے بھارتی چوکیوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی اور مارٹر گولے پھینکے جن سے ایک سویلین مکان تباہ ہو گیا۔‘

"ہم کچھ نہیں چھپا رہے اور اسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ آزادانہ تحقیقات ہوں۔ اور یہی پیشکش ہم نے بھارت کو بھی کی ہے۔"

حنا ربانی کھر

اس واقعے کے بعد بھارتی حکام نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت اور ان کی لاشوں کی بےحرمتی کا الزام پاکستانی فوج پر عائد کیا تھا جس کی پاکستانی فوج نے پرزور الفاظ میں تردید کی تھی۔

اس بارے میں پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا تھا کہ ’بھارت کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات حیران کن ہیں اور پاکستان ہمیشہ ذمہ دار بیانات دیتا ہے۔ بھارت سے لائن آف کنٹرول کے واقعے کے حوالے سے متضاد بیانات آ رہے ہیں۔‘

حنا ربانی کھر نے مزید کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے مبصر مشن سے چھ جنوری کو پاکستانی چوکی پر حملے کی تحقیقات کا کہا ہے۔ ’ہم کچھ نہیں چھپا رہے اور اسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ آزادانہ تحقیقات ہوں۔ اور یہی پیشکش ہم نے بھارت کو بھی کی ہے۔‘

بھارت اور پاکستان کے درمیان برسوں کی کشیدگی کے بعد نومبر سنہ دو ہزار تین میں متنازع کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا جو اب تک قائم ہے۔

اس فائر بندی کے دوران اب تک لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں تاہم فائرنگ کا تبادلہ اکثر دونوں ممالک کی افواج کی چوکیوں تک محدود رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔