عمران میرا سگریٹ کا دوست

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 11 جنوری 2013 ,‭ 12:22 GMT 17:22 PST

عمران کی دو بیٹیوں کو ان کا باپ اور مجھے میرا سگریٹ کا دوست اب کبھی نہیں ملے گا

کوئٹہ میں دھماکے کی اطلاع جب جمعرات کی رات مجھے فون پر ملی تو میرے لیے یہ بھی ایک ایسا ہی دھماکہ تھا جو کہ عموماً پاکستان میں ہو رہے ہیں لیکن جلد ہی پتہ چل گیا کہ یہ کوئی عام دھماکہ نہیں۔

خبریں آتی گئیں اور پھر پتہ چلا کہ اس واقعے میں سماء ٹی وی کا کیمرہ مین عمران شیخ زخمی ہونے کے بعد چل بسا ہے۔

دیکھا جائے تو میرا عمران سے تعلق اتنا ہی گہرا ہے جتنا کسی سگریٹ پینے والے کا کسی دوسرے سگریٹ پینے والے سے ہو سکتا ہے۔ مگر میرے لیے اس میں خاص بات یہ تھی کہ میں نے زندگی کا پہلا سگریٹ عمران سے ہی لے کر پیا تھا۔

یہ جنوری دو ہزار تین کی بات ہے اور اس کے بعد سے اب ہر سگریٹ پر یہ یاد میرے ساتھ ہے۔

عمران کے مرنے کی خبر کیا آئی آہستہ آہستہ یادوں کے دریچے کھلتے چلے گئے۔ اس کی شادی ہو یا اسے نوکری کا ملنا ہر واقعے کے ساتھ کوئی نہ کوئی یاد جڑی ہے۔

عمران کی شادی اور اس کی نوکری میں بھی گہرا تعلق تھا کیونکہ یہ شادی ایک بہتر نوکری نہ ملنے کی وجہ سے کافی عرصے تک رکی رہی تھی اور وہ نوکری جو اس کی جان جانے کا سبب بنی، اس کی شادی کی بھی بنیادی وجہ تھی۔

نوکری ملنے کا قصہ بھی عجیب ہے۔ ایک دن پتا چلا کہ عمران شیخ کا انٹرویو ہے لیکن وہ کیمرہ ورک کا ماہر نہیں۔ اس نے مجھ سے رابطہ کیا اور انٹرویو کے لیے ٹپس مانگیں۔ میں اپنا کیمرہ لے کر اس کے پاس پہنچا اور جو کچھ اور جتنا کچھ اس کے دماغ میں انڈیل سکتا تھا انڈیل دیا۔

یہ تو یاد نہیں کہ اسے کیا یاد رہا لیکن عمران کو کام مل گیا۔

عمران سے میری ملاقات ایک شادی میں ہوئی تھی جہاں وہ تقریب کی ویڈیو بنا رہا تھا۔ اس تقریب میں ہونے والی ملاقات دوستی میں بدل گئی اور پھر ایک وقت آیا جب ہم ایک ہی پیشے سے وابستہ ہوگئے اور اکٹھے کام شروع کر دیا اور کام کرتے کرتے ہی وہ ہم سب سے دور چلا گیا۔

عمران ایک انتہائی جذباتی لیکن کمال کی حسِ مزاح کا مالک شخص تھا اور یہ ممکن نہ تھا کہ اس سے بات کرنے والا شخص بغیر مسکرائے رہ سکے۔

کوئٹہ کا دھماکہ ایسا ہی دھماکہ تھا جس میں میرے والد بھی اپنی جان دے چکے ہیں۔ تب بھی میں اپنے شہر سے دور تھا اور آج بھی وہاں نہیں۔

میرے والد کی ہلاکت پر عمران میرے گلے لگ کر رو رہا تھا اور آج ہم اس کی جدائی میں آبدیدہ ہیں۔

یہ دھماکے لوگوں کی زندگی کس طرح بدل دیتے ہیں، دھماکے کرنے والے ہوں یا حکام یا پھر اس کی خبر دینے والے وہ اس کا صحیح اندازہ نہیں کر سکتے۔ دھماکے کی نوعیت کے اندازے تو جلد ہی لگا لیے جاتے ہیں لیکن اس کے اصل اثرات کا اندازہ کوئی کبھی نہیں لگا سکتا۔

کوئٹہ میں دھماکے ہوئے، ٹی وی چینل کو خبر مل گئی اور لوگوں کو اطلاع۔ سیاسی جماعتوں کو بیانات دینے کا موقع ملا اور شاید چینلز کو ریٹنگ بڑھانے کا موقع لیکن عمران کی دو بیٹیوں کو ان کا باپ اور مجھے میرا سگریٹ کا دوست اب کبھی نہیں ملے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔