کوئٹہ دھماکے: شہر میں سوگ، احتجاجاً تدفین سے انکار

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 11 جنوری 2013 ,‭ 15:08 GMT 20:08 PST

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جمعرات کو پانچ گھنٹوں کے دوران ہونے والے ایک خودکش حملے اور دو بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچانوے تک پہنچ گئی ہے جبکہ ایک سو ستّر افراد زخمی ہیں۔

بلوچستان کی حکومت اور شیعہ تنظیموں نے ان ہلاکتوں پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ کوئٹہ کی تاجر تنظیموں اور شیعہ برادری کی اپیل پر دھماکوں کے خلاف جمعہ کو شہر میں شٹر ڈاؤن بھی ہڑتال کی جا رہی ہے۔

پہلے دھماکے کا نشانہ فرنٹیئر کور کے جوان تھے جبکہ بقیہ دو دھماکے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبیلے کی گنجان آبادی والے علاقے میں ہوئے اور ہلاک شدگان میں بڑی تعداد اہلِ تشیع کی تھی۔

بلوچستان شیعہ کونسل نے ہلاک ہونے والے شیعہ افراد کی لاشیں علمدار روڈ رکھ کر احتجاجاً دھرنا دیا ہوا ہے۔

بلوچستان شیعہ کونسل کے چیئرمین داؤد آغا نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ’جب تک کوئٹہ میں سکیورٹی کی ذمہ داری پاکستانی فوج نہیں سنبھالتی تب تک وہ ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین نہیں کریں گے۔‘

انہوں نہ کہا کہ چوراسی لاشیں علمدار روڈ پر پڑی ہیں اور ہزاروں افراد دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے مذاکرات صوبے کے چیف سیکریٹری، پولیس اور ایف سی سے جاری ہیں۔

ہڑتال کی وجہ سے کوئٹہ کے تمام اہم کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ ہلاک شدگان کی تدفین کے تناظر میں شہر میں سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

شہر میں پہلا دھماکہ جمعرات کی شام باچا خان چوک پر اور پھر رات نو بجے یکے بعد دیگرے دو دھماکے علمدار روڈ پر ہوئے۔

کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیم یونائیٹد بلوچ آرمی نے پہلے جبکہ شدت پسند کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی نے بقیہ دو دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

علمدار روڈ پر دوہرے دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں میں عام شہریوں کے علاوہ فرنٹیئرکور بلوچستان کے ترجمان مرتضیٰ بیگ، کوئٹہ پولیس کے ایک ڈی ایس پی اور ایک ایس ایچ او سمیت نو اہلکار اور ایدھی اور دیگر رضاکار تنظیموں کے دس سے زائد کارکن بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان کے نجی ٹی وی سماء کے نامہ نگار سیف الرحمان، ایک کیمرہ مین عمران شیخ اور نیوز ایجنسی این این آئی کے فوٹوگرافر اقبال بھی اس دہشتگردی کا نشانہ بنے ہیں۔

میزان چوک پر ایک گاڑی کے نیچے ایک ٹائمر ڈیوائس لگا کر دھماکہ کیا گیا

کوئٹہ پولیس کے سربراہ میر زبیر محمود نے جمعرات کی شب ایک پریس کانفرس میں علمدار روڑ پر ہونے والے دھماکوں میں اکیاسی افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی جبکہ طبی ذرائع نے جمعہ کی صبح بی بی سی کو بتایا کہ فرنٹیئرکور کے ترجمان مرتضیٰ بیگ سمیت دھماکے کے مزید دو زخمی دم توڑ گئے ہیں۔

میر زبیر محمود نے یہ بھی بتایا تھا ان دو دھماکوں میں ایک سو بیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔ سی سی پی او کوئٹہ کے بقول ہلاک ہونے والے افراد میں سے پچیس کی تاحال شناخت ہو سکی ہے اور ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ عملدار روڑ پر ہونے والا پہلا دھماکہ خودکش تھا جس کے کچھ دیر بعد کار میں نصب بم پھٹا۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلا خودکش بم حملہ تھا جب کہ دوسرا دھماکہ ایک گاڑی میں ہوا ہے اور اس ضمن میں تحقیقات جاری ہیں کہ آیا یہ ریموٹ کنٹرول دھماکہ تھا یا خودکش کار بم دھماکہ تھا۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کی رات ہونے والا پہلا دھماکہ علمدار روڈ پر ایک امام بارگاہ کے قریب واقع سنوکر کلب میں ہوا اور یہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کے نتیجے میں تین منزلہ عمارت جس میں یہ کلب واقع تھا، زمیں بوس ہو گئی۔

دھماکے کے بعد علاقے کی بجلی منقطع ہو گئی جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آئیں۔

بلوچستان کے ہوم سیکریٹری اکبر حسین درانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے دھماکے کے بعد جب امدادی کارکن اور میڈیا کے نمائندے جائے حادثہ پر پہنچے تو ایک اور دھماکہ ہوا جس میں زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

علمدار روڈ پر ہونے والے دھماکوں میں فلاحی ادارے ایدھی کے چار امدادی کارکن بھی زخمی اور ہلاک ہوئے

دوسرے دھماکے میں ہی پولیس کے نو اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے تین افراد مارے گئے جبکہ اسی دھماکے میں فلاحی ادارے ایدھی کے چار کارکنوں سمیت دس ایسے امدادی کارکن بھی ہلاک ہو گئے جو امدادی کارروائیوں کے لیے جائے حادثہ پر پہنچے تھے۔

دھماکے سے موقع پر موجود ایمبولینسوں اور ذرائع ابلاغ کی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

پولیس کی جانب سے علمدار روڈ پر ہونے والے بم دھماکوں کے بارے میں تحقیقات شروع کردی گئی ہے اور پولیس کے مطابق ان دھماکوں کے محرکات فرقہ وارانہ ہیں۔

اس سے قبل شہر کے مرکزی علاقے میں میزان/باچا خان چوک پر ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک اور چونتیس سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک ایف سی کا اہلکار جبکہ دو سول ملازمین بھی شامل ہیں جبکہ زخمی ہونے والوں میں ایف سی کے دس اہلکار شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق یہ دھماکہ فرنٹیئر کور کی شہر میں گشت پر مامور ان گاڑیوں کے قریب ہوا تھا جو کہ باچا خان چوک پر بلدیہ پلازہ کے ساتھ پارک کی جاتی ہیں۔ دھماکے کے نتیجے میں قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ متعدد گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق اس دھماکے کے لیے پچیس سے تیس کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔

کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیم یونائیٹد بلوچ آرمی کے ترجمان مرید بلوچ نے نامعلوم مقام سے میڈیا کے دفاتر کو فون کر کے اس کارروائی کو آواران ، مکران اور بولان کے علاقوں میں مبینہ آپریشن کا رد عمل قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔