’حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، مارچ ہو گا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 11 جنوری 2013 ,‭ 17:58 GMT 22:58 PST

کچھ روز پہلے ایک وفاقی وزیر آئے تھے وہ بھی مذاکرات کے لیے نہیں: طاہر القادری

تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہر القادری کا کہنا ہے کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں اور چودہ جنوری کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی وارننگ دینے والوں کے اپنے انتہا پسندوں کے ساتھ رابطے ہیں۔

کلِک ’ایم کیو ایم ایم کے بغیر بھی مارچ ہو گا‘

بی بی سی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے علامہ طاہر القادری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں مارچ کے لیے تحریری اجازت مانگی تھی جو حکومت نے نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ سے علیحدگی کا فیصلہ ایم کیو ایم کا جمہوری حق تھا اس پر کوئی گلہ نہیں۔

علامہ طاہر القادری کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کی توجہ صرف انتخابی اصلاحات پر ہے ’ اگر آئین اور قانون کے دائرے اور نگران حکومت کے دورانیے میں یہ اصلاحات ہوگئیں تو الیکشن لڑنے کا خرچہ کم ہوجائےگا اور بہت سی بدعنوان اور غیر قانونی روایات ختم ہو جائیں گی‘۔

’اگر ہم یہ کروانے میں کامیاب ہوگئے تو متوسط اور پڑھا لکھا طبقہ بھی انتخابات میں حصہ لے سکے گا اور ان میں سے کافی لوگ پارلیمنٹ میں آنے کے قابل ہوجائیں گے۔ اگر ایک تہائی سفید پوش اورایماندار لوگ بھی آگے آسکیں تو پھر پارلیمنٹ میں اندھیرنگری نہیں ہوسکے گی اور پاکستان میں جمہوریت کی کشتی صیح سمت میں آگے کو بڑھ سکے گی‘۔

اس سوال کے جواب میں کہ دہشتگردی کے خدشے کے باوجود لانگ مارچ کرنا کیا انسانی زندگیوں کو داو پر لگانا نہیں، علامہ طاہر القادری کا کہنا تھا کہ ’دہشگردی کی وارننگ دینے والوں کے خود انتہاپسندوں سے رابطے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ مظلوم اور محروم قوموں کو اپنے حق کے لیے آگے آنا بڑھنا پڑتا ہے، کوئی پلیٹ میں رکھ کر انقلاب نہیں دیتا اور نہ ہی گھر بیٹھے کسی کا مقدر سنورتا ہے۔

طاہر القادری کا کہنا تھا کہ ’حکومت دھاندلی، دھونس اور ’دہشت گردی‘ پر یقین رکھتی ہے مذاکرات پر نہیں۔ یہ لوگ مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ کچھ روز پہلے ایک وفاقی وزیر آئے تھے وہ بھی مذاکرات کے لیے نہیں۔ کچھ لوگ آئیں گے وہ بھی ملنے کے لیے آ رہے ہیں باضابطہ بات چیت کے لیے نہیں۔ لوگوں سے تو ہم ملتے رہتے ہیں‘۔

علامہ طاہر القادری نے کہا کہ ملک کے سیاسی نظام کو صاف کرنا چاہتے ہیں تاکہ شریف آدمی کے لیے بھی اس کا حصہ بننا ممکن ہوسکے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے چودہ جنوری کے لانگ مارچ سے علیحدگی کے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے طاہر القادری نے کہا ’ لانگ مارچ کا اعلان تو ہم نے کیا تھا انھوں نے ہمارے ساتھ تائید اور حمایت کا اعلان کیا اور پھر اس پر آج تک ہمارے ساتھ رہے ۔ انھوں نے جتنا بھی تعاون کیا ہم اس پر ان کے شکر گزار ہیں‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔