’بلوچستان میں گورنر راج سے فرق نہیں پڑے گا‘

آخری وقت اشاعت:  پير 14 جنوری 2013 ,‭ 13:55 GMT 18:55 PST

کون سی محفوظ پناہ گاہیں ہیں جو انٹیلیجنس کو معلوم نہیں ہیں: اختر مینگل

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ پر سیاسی رہنماؤں کا متنوع ردعمل سامنے آیا ہے۔

صوبے کے سابق وزیراعلیٰ اختر مینگل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر راج سے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سطحی تبدیلیاں ہیں اور کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اختر مینگل نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ’نالائقی‘ ایک طرف لیکن گورنر راج سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور دیکھیے گا کہ چند ہی دنوں میں حالات وہی ہو جائیں گے۔

انہوں نےکہا کہ بلوچستان تو شروع ہی سے فوج کے حوالے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’جب بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کو پہاڑوں میں میں تلاش کر کے قتل کیا جاسکتا ہے تو فرقہ واریت کے مرتکب افراد کو کیوں نہیں تلاش کیا جا سکتا‘۔

انہوں نے مزید کہا ’کون سی محفوظ پناہ گاہیں ہیں جو انٹیلیجنس کو معلوم نہیں ہیں۔ یہ سب کچھ فوج اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کا کرنا ہے۔ گورنر راج اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے پانچ سالوں میں ان دہشت گرد تنظیموں کے ایک کارکن کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا۔ ’بلوچ مزاحمت کاروں کو پکڑ کر لاشیں پھینکی جا سکتی ہیں تو ان شدت پسندوں کو گرفتار کر کے عدالت میں تو پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس سب کے پیچھے وہ طاقتیں ہیں جو جمہوریت کے حق میں نہیں ہیں۔‘

پاکستان نیشنل پارٹی عوامی کے رہنما اسرار اللہ زہری بھی گورنر راج کے حامی نظر نہیں آئے اور ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج کا نفاذ غیر آئینی اور غیر قانونی قدم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جلد بازی کی۔ ’وزیر اعلیٰ رئیسانی مستعفی ہونے کو تیار بھی تھے اور چاہیے تھا کہ ان سے استعفیٰ لے کر جمہوری عمل کو مزید مستحکم کرتے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اٹھارہویں ترمیم کے بعد ہم سمجھ رہے تھے کہ بلوچستان محفوظ ہو جائے گا لیکن سب سے پہلا حملہ بلوچستان ہی پر ہوا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اندرونی اور بیرونی طاقتیں نہیں چاہتیں کہ ملک میں جمہوریت ہو اور وہ کامیاب رہے۔

ان کے برعکس پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق جنرل عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ اس پر کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہے کہ صوبائی حکومت ناکام ہو چکی تھی اور گورنر راج اگر اس نیت کے ساتھ لگایا گیا ہے کہ اس پر اتنی پابندیاں نہیں ہوتی اور فیصلے لیے جا سکتے ہیں اور حالات بہتر ہوں جائیں گے تو اچھا ہے۔

گورنر نواب ذوالفقار مگسی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں اور ان کے دور میں حالات بہتر تھے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ وہ حالات پر قابو پا لیں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔