بلوچستان میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا

آخری وقت اشاعت:  پير 14 جنوری 2013 ,‭ 10:36 GMT 15:36 PST

آصف علی زرداری نے وزیراعظم کی سمری پر اتوار کو رات گئے دستخط کیے

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد صوبہ بلوچستان میں دو ماہ کے لیے گورنر راج نافذ کر دیا گیا تھا جس کے بعدگورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی صوبے کے چیف ایگزیکٹو بن گئے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اتوار کی رات ہی صدرِ پاکستان نے وزیراعظم کی جانب سےآئین کے آرٹیکل 234کے تحت بھیجی گئی سمری پر دستخط بھی کر دیے جس کے بعد گورنر راج عملی طور پر نافذ ہوگیا۔

وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے اتوار کو رات گئے کوئٹہ میں دھرنے پر بیٹھے مظاہرین کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کی صوبائی حکومت کی برطرفی اورگورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس اعلان کے بعد کوئٹہ میں جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان علمدار روڈ پر ایک جلسے میں کیا گیا۔کوئٹہ میں دھرنے کے اختتام کے بعد ملک کے دوسرے شہروں میں جاری دھرنے بھی بتدریج ختم کر دیے گئے۔

خیال رہے کہ شیعہ تنظیموں نےگورنر راج کے عملی نفاذ تک دھرنا جاری رکھنے اور دھماکوں کے ہلاک شدگان کی تدفین نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج

  • آئین کا آرٹیکل 234 کسی صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں صدرِ پاکستان کو حکم نامہ جاری کرنے کی طاقت دیتا ہے۔
  • اس آرٹیکل کے تحت اگر صدر کسی صوبے کے گورنر کی طرف سے رپورٹ ملنے پر مطمئن ہوتا ہے کہ ایک ایسی صورتحال آ گئی ہے کہ جب صوبائی حکومت آئین و قانون کے مطابق اپنا کام سرانجام نہیں دے سکتی تو وہ ایک حکم نامے کے ذریعے خود یا اس کے حکم پر صوبے کا گورنر صوبائی حکومت کی ذمہ داریاں سنبھال سکتا ہے۔
  • اس آرٹیکل کے تحت صدر یا گورنر کو صوبائی اسمبلی اور ہائی کورٹ کے اختیارات کے سوا صوبے کے کسی بھی فرد یا ادارے کو تفویض شدہ اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں۔
  • صدر خود یا اس کا نامزد گورنر آئین میں ہائی کورٹس سے متعلق شرائط کو کلّی یا جزوی طور پر معطل بھی نہیں کر سکتا۔
  • آئین کے تحت صوبائی اسمبلی کے قانون سازی کے تمام اختیارات وفاقی پارلیمنٹ کو منتقل ہو جاتے ہیں جبکہ ہائی کورٹ بدستور آئین کے تحت کام کرتی رہتی ہے۔
  • اس آرٹیکل کے تحت جاری کردہ صدارتی فرمان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظوری ضروری ہے اور یہ دو ماہ تک نافذالعمل رہتا ہے۔
  • آئین کے مطابق صدر اگر چاہیں تو دو ماہ کے لیے گورنر راج میں اضافہ کر سکتے ہیں لیکن اس کی دوبارہ توثیق بھی لازمی ہے۔ صدر کسی بھی صورت میں چھ ماہ سے زیادہ گورنر راج نافذ نہیں کر سکتے۔

  • آئین کی شق دو سو چھتیس کے تحت صدارتی فرمان کو کسی بھی عدالت میں چیلنج بھی نہیں کیا جاسکتا۔

یہ دھرنا جمعرات کو علمدار روڈ پر ہونے والے دوہرے دھماکوں میں نوے سے زائد شیعہ افراد کی ہلاکت کے بعد شروع ہوا تھا اور ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سمیت ہزاروں افراد سخت سرد موسم میں پچھہتر میتیں ساتھ لیے اسّی گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے بعد بھی دھرنا دیے بیٹھے رہے تھے۔

علمدار روڈ پر دھرنے میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد شامل رہی اور یہ افراد بلوچستان کی موجودہ حکومت کے خاتمے، کوئٹہ شہر کی سکیورٹی کا انتظام فوج کے حوالے کرنے اور حملہ آوروں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کے مطالبات کر رہے ہیں۔

کوئٹہ سے مقامی صحافی محمد کاظم کے مطابق وزیراعظم نے گورنر راج کے نفاذ کا اعلان اتوار کو کوئٹہ میں ساٹھ گھنٹے سے پچھہتر میتوں سمیت دھرنا دینے والے مظاہرین کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد کیا۔

پنجابی امام بارگاہ میں ہونے والی ملاقات میں انہوں نے پہلے ہلاک شدگان کے لیے فاتحہ خوانی کی جس کے بعد انہیں ہزارہ برادری کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ کے بعد حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئین کے آرٹیکل دو سو چونتیس کے نفاذ کا فیصلہ کرتے ہوئے صوبے میں گورنر راج لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تحلیل کر دی جائے گی اور ’جب آپ صبح اٹھیں گے تو صوبے میں گورنر راج نافذ ہوگا اور گورنر ذوالفقار مگسی صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہوں گے‘۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ وہ گورنر سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس سانحے کے ذمہ داران کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دلوائیں گے اور کسی سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

اس موقع پر ہزارہ برادری کے نمائندوں نے وزیراعظم سے کوئٹہ میں فوج کی تعیناتی پر بھی اصرار کیا جس پر وزیراعظم نے کہا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد کوئٹہ کے کور کمانڈر گورنر مگسی کے احکامات کے پابند ہوں گے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صوبے میں فرنٹیئر کور کو پولیس کے مکمل اختیارات دے دیے گئے ہیں اور انتظامیہ جب چاہے مدد کے لیے فوج بھی طلب کر سکتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کورکمانڈر ایف سی کی کارکردگی پر نظر رکھیں گے اور کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائےگا۔

انہوں نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ دھرنا ختم کریں اور جمعرات کو دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کر دیں تاہم موقع پر موجود ہزارہ رہنما قیوم چنگیزی نے گورنر راج کا نوٹیفیکیشن ہاتھ میں آنے تک لاشوں کی تدفین سے انکار کر دیا۔

ادھر کوئٹہ یکجہتی کونسل کے صدر سعادت علی ہزارہ نے کہا ہے کہ مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد علمدار روڈ پر جاری دھرنا جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے تاہم کچھ افراد معاملات کو پیچیدہ بنانے پر مُصِر ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔