’اسلام آباد جانا زندگی کی آخری خواہشات میں شامل‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 15 جنوری 2013 ,‭ 10:30 GMT 15:30 PST
ڈاکٹرطاہر القادری کے لانگ مارچ میں شریک لوگ

ڈاکٹر طاہر القادری کا مارچ اسلام آباد پہنچ گیا ہے

ڈاکٹر طاہرالقادری کے لانگ مارچ میں شرکت کرنے والے کچھ افراد ایسے بھی ہیں جنہیں منہاج القران کے سربراہ کے ایجنڈے سے کوئی غرض نہیں ہے بلکہ وہ صرف پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد کو دیکھنے آئے ہیں۔

ساٹھ سالہ گُلاب خان بھی ایسے ہی افراد میں شامل ہیں جو زندگی میں پہلی بار اسلام آباد آئے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ وہ صوبہ خیبر پختون خوا کے شہر مردان کے ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور اُنہوں نے پاکستان کے دارالحکومت کے بارے میں ریڈیو پر اور لوگوں سے بہت کچھ سُن رکھا تھا لیکن اُنہوں نے کبھی اس کو نہیں دیکھا تھا۔

گُلاب خان کے مطابق علاقے کے کچھ لوگ اس لانگ مارچ میں شرکت کے لیے اسلام آباد آرہے تھے چنانچہ وہ بھی اُن کے ساتھ آگئے۔

اسلام آباد دیکھنے کی خواہش

گلاب خان صوبہ خیبر پختون خوا کے شہر مردان کے ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور اُنہوں نے پاکستان کے دارلحکومت کے بارے میں ریڈیو پر اور لوگوں سے بہت کچھ سُن رکھا تھا لیکن اُنہوں نے کبھی اس کو نہیں دیکھا تھا۔ علاقے کے کچھ لوگ اس لانگ مارچ میں شرکت کے لیے اسلام آباد آرہے تھے چنانچہ وہ بھی اُن کے ساتھ آگئے۔

اُنہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس نے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے آنے والے شرکاء کو وفاقی دارالحکومت کے نواحی علاقے سنگ جانی کے قریب روک لیا لیکن اس کے باوجود اُن کا ارادہ متزلزل نہیں ہوا اور وہ بیس کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرکے ڈی چوک پر پہنچے ہیں لیکن رکاوٹوں اور کنٹینرز کی وجہ سے وہ پارلیمنٹ ہاؤس نہیں دیکھ سکے جس کا اُنہیں افسوس رہے گا۔

گُلاب خان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اُن کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں تاہم کھانے پینے کی اُنہیں اس لیے فکر نہیں ہے کیونکہ لانگ مارچ کے شرکاء بڑی مقدار میں کھانے پینے کی اشیاء اپنے ساتھ لائے ہیں اس لیے وہ ان سے لےکر کھا لیں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ رات کے وقت انہوں نے بلیو ایریا میں واقع قریبی مسجد میں جاکر آرام کیا جہاں پر لانگ مارچ کے سینکٹروں شرکاء بھی آرام کی غرض سے موجود تھے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنے خطاب کے دوران شرکاء سے حلف لیا تھا کہ وہ آرام نہیں کریں گے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق سینکڑوں شرکاء نے آرام کی غرض سے فیصل مسجد کا بھی رخ کیا جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔

روزانہ اجرت پر

پینتیس سالہ محمد سلیم کا تعلق پنجاب کے علاقے شورکوٹ سے ہے وہ بھی پہلی مرتبہ اسلام آباد آئے ہیں، انہوں نے کہا کہ اُن کا منہاج القران سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ تو صرف اپنے علاقے کے بااثر شخص نوید سیال کے کہنے پر آئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اُن سمیت بیس افراد علاقے سے آئے ہیں جو روزانہ اُجرت کی بنیاد پر کام کرتے ہیں وہ بھی پہلی بار اسلام آباد آئے ہیں۔

پینتیس سالہ محمد سلیم کا تعلق پنجاب کے علاقے شورکوٹ سے ہے وہ بھی پہلی مرتبہ اسلام آباد آئے ہیں، کہا کہ اُن کا منہاج القران سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ تو صرف اپنے علاقے کے بااثر شخص نوید سیال کے کہنے پر آئے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اُن سمیت بیس افراد علاقے سے آئے ہیں جو روزانہ اُجرت کی بنیاد پر کام کرتے ہیں وہ بھی پہلی بار اسلام آباد آئے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ اس بات کا وعدہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ جتنے روز اسلام آباد میں رہیں گے اُنہیں روزانہ کی بنیاد پر رقم بھی ادا کی جائے گی جبکہ کھانا اس کے علاوہ ہوگا۔

محمد سلیم کا کہنا ہے کہ اُن سمیت دیگر افراد کو ابھی تک رقم ادا نہیں کی گئی اور وہ اپنے ساتھ کوئی سازوسامان بھی نہیں لیکر آئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔