’ایسے معاملات محض اتفاق نہیں ہوا کرتے‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 15 جنوری 2013 ,‭ 17:23 GMT 22:23 PST

یہ فیصلہ اداروں میں تناؤ اور تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کے بعد اس عہدے پر فائز ہونے والے راجہ پرویز اشرف کی گرفتاری کا حکم دیا ہے اور اس حکم پر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے متنوع ردعمل سامنے آیا ہے۔

حکومت اور اپوزیشن میں موجود جماعتیں اس فیصلے کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہیں جبکہ پارلیمنٹ سے باہر موجود جماعتیں آئندہ کی حکمت عملی پر توجہ مرکوز کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اور عدلیہ تحریک میں پیش پیش رہنے والے بیرسٹر اعتزاز احسن نے اس حکم کو ایک تشویشناک فیصلہ قرار دیا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو کی گرفتاری کا اتنی آسانی سے حکم نہیں دیا جانا چاہیے تھا کیونکہ یہ فیصلہ اداروں میں تناؤ اور تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

صحافی حمیرا کنول کے مطابق انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس فیصلے کی ٹائمنگ سے اس کے بارے میں بہت سے خدشات اور اندیشے پیدا ہوئے ہیں کہیں اس سے جمہوریت کے خلاف مہم جوئی تو نہیں ہو رہی۔

حکومتی اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتوں میں سے ایم کیو ایم نے تو فی الحال اس عدالتی فیصلے پر کسی قسم کے تبصرے سے انکار کیا تاہم عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر حاجی عدیل حالیہ صورتحال میں اس فیصلے کو خوش کن قرار نہیں دیتے۔

انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ہر فیصلے کو تسلیم کرنا تو ضروری ہوتا ہے لیکن یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ایک ایسے موقع پر جب اسلام آباد میں ایک شخص اپنے مریدوں کے ساتھ موجود ہے اور کہتا ہے کہ میں قانون، آئین اور پارلیمنٹ کو نہیں مانتا تو سپریم کورٹ کو تو چاہیے تھا کہ اس کا سو موٹو نوٹس لیتی اور اس شخص پر غداری کا مقدمہ چلاتی لیکن سپریم کورٹ نے جو اس کے سائے میں ہو رہا ہے اس میں کوئی دلچسپی نہیں لی اور ایک پرانے فیصلے کو اٹھا لیا۔

"بڑی عجیب بات ہے کہ ایک ایسے موقع پر جب اسلام آباد میں ایک شخص اپنے مریدوں کے ساتھ موجود ہے اور کہتا ہے کہ میں قانون، آئین اور پارلیمنٹ کو نہیں مانتا تو سپریم کورٹ کو تو چاہیے تھا کہ اس کا سو موٹو نوٹس لیتی اور اس شخص پر غداری کا مقدمہ چلاتی لیکن سپریم کورٹ نے جو اس کے سائے میں ہو رہا ہے اس میں کوئی دلچسپی نہیں لی اور ایک پرانے فیصلے کو اٹھا لیا۔"

حاجی عدیل، اے این پی

اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور تجزیہ کار ایاز امیر کے مطابق ’کچھ دن سے سارا دھیان کوئٹہ پر لگا ہوا تھا اور اس کے بعد قادری صاحب کی لانگ مارچ پر اور بڑے عرصے بعد سپریم کورٹ بالکل منظر سے غائب نظر آ رہی تھی اور یہ جو آج انھوں نے گرفتاری کا حکم سنایا ہے وہ اتنا ضروری نھیں تھا۔ اسے کسی اور طرح سے بھی یہ فیصلہ لیا جا سکتا تھا اس کے لیے اتنا ڈرامائی انداز اختیار کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔‘

ایاز امیر نے کہا کہ فیصلے سے اس تاثر کو بھی تقویت ملی ہے جں میں یہ کہا جا رہا تھا کہ قادری کے پیچھے کوئی اور ہاتھ ہے اور سازش ہو رہی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’پیپلز پارٹی کو لانگ مارچ کے جواب میں یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کریں لیکن اب ان کی زبانیں بھی کھل گئی ہیں۔ انہیں ایشو مل گیا ہے اور اب وہ کہہ رہے ہیں اور کہیں گے بھی کہ دیکھیں ہمارے خلاف ہمیشہ ہی سازشیں ہوتی ہیں اور یہ اس کا ثبوت ہے۔‘

پارلیمنٹ کے باہر موجود جماعتوں میں عمران خان نے تو عدالتی فیصلے کے فوری بعد پریس کانفرنس کر ڈالی جس میں انہوں نے صدر سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنا سات نکاتی ایجنڈا بھی پیش کیا۔ عمران خان نے کہا کہ ’اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہوئی تو ہم سڑکوں پر نکل آئیں گے‘۔

جماعت اسلامی کے سربراہ منور حسن حکومت یا سپریم کورٹ میں سے کسی ایک کا ساتھ دینے کے بجائے میڈیا اور طاہرالقادری سے زیادہ ناراض دکھائی دیے۔

"آپ ایک وزیر اعظم کو نہیں سو وزیراعظم گرفتار کریں لیکن یہ بتائیں کہ آج کیا ایسی بات ہوئی تھی کیا آپ کو خبر ملی تھی کہ وزیر اعظم بسترا بوریے گول کرکے جا رہا ہے جو آپ نے یہ آج ہی کرنا تھا۔"

عاصمہ جہانگیر

انھوں نے کہا کہ ’میڈیا نے جو ناٹک رچایا اس کے نتیجے میں طاہرالقادری کے لانگ مارچ کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے جوڑ دیا گیا ہے اور تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ یہ لانگ مارچ کے دباؤ سے سامنے آیا لیکن اصل میں ایسا نہیں ہے۔‘

ادھر پاکستان میں عدلیہ کی بحالی کی تحریک کی سرگرم رہنما اور انسانی حقوق کی رہنما عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ تحریک منہاج القرآن کا مارچ اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی گرفتاری کا حکم ایک پوری منصوبہ بندی کے تحت ہوا ہے، ایسے معاملات محض اتفاق نہیں ہوا کرتے۔

کراچی میں میڈیا سے بات چیت میں ا عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ اگر ہم اس اصول پر یقین رکھتے ہیں کہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی ساتھ ساتھ چلتی ہے تو آج آستین کے سانپوں نے دونوں کو ڈسا ہے۔

انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ بڑے احترام کے ساتھ پوچھتی ہیں کہ ’آپ ایک وزیر اعظم کو نہیں سو وزیراعظم گرفتار کریں لیکن یہ بتائیں کہ آج کیا ایسی بات ہوئی تھی کیا آپ کو خبر ملی تھی کہ وزیر اعظم بسترا بوریا گول کر کے جا رہا ہے جو آپ نے یہ آج ہی کرنا تھا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔