وزیراعظم پاکستان کی گرفتاری کا حکم

آخری وقت اشاعت:  منگل 15 جنوری 2013 ,‭ 11:50 GMT 16:50 PST

وزیراعظم کی گرفتاری کا حکم

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کرائے کے بجلی گھروں کے بارے میں ہونے والے معاہدوں کے مقدمے میں وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف سمیت سولہ افراد کی گرفتاری کا حکم دے دیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اگر ان میں سے کوئی بھی شخص بیرون ملک فرار ہوا تو اُس کی تمام تر ذمہ داری قومی احتساب بیورو کے چیئرمین پر عائد ہوگی۔

یہ حکم ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ملک کی سیاسی صورتحال میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور تحریکِ منہاج القرآن کے سربراہ طاہر القادری اسلام آباد میں ہزاروں افراد کے ہمراہ اسمبلیوں کی تحلیل کا مطالبہ کرتے ہوئے دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

عدالت نے سماعت کے دوران نیب کے پراسیکیوٹر جنرل سے استفسار کیا کہ اس مقدمے میں ابھی تک ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جبکہ عدالتی فیصلے کو آئے ہوئے کافی عرصہ ہوگیا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ابھی تک تو اس مقدمے کا ریفرنس بھی احتساب عدالتوں میں نہیں بجھوایا گیا تو ملزمان کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی۔

نیب کی عدالت میں پیش کردہ فہرست میں راجہ پرویز اشرف کا نام بیسویں نمبر پر ہے

عدالت کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کے تفتیشی افسر محمد اصغر نے جب اس مقدمے کی تفتیش میں جب وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو بطور ملزم نامزد کیا تو اُس کا تبادلہ کردیا گیا اور اس ضمن میں سپریم کورٹ کا نام بھی استعمال کیا گیا کہ عدالت تفتیشی افسر کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔

نیب کے ایڈشنل پراسیکیوٹر جنرل رانا زاہد محمود نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے پیراں غائب ریفرنس تیار کر لیا ہے جسے احتساب عدالت میں پیش کرنے کے لیے حتمی منظوری کے لیے نیب ہیڈکوارٹر بھجوا دیا گیا ہے۔

عدالت کے استفسار پر نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے اُن افراد کے نام بتائے جنہیں اس ریفرنس میں نامزد کیا گیا ہے اُن میں موجودہ وزیراعظم اور مقدمے کے وقت کے وزیرِ پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف، سابق وزیر خزانہ شوکت ترین، پانی و بجلی کے سابق سیکرٹریز شاہد رفیع، محمد اسماعیل قریشی اور اشفاق محمود، سابق سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق، نپیرا کے سابق چیئرمین خالد سعید اور پیپکو کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹرز طاہر بشارت چیمہ اور منور بصیر احمد سمیت سولہ افراد کے نام شامل تھے۔

"حکومت ہر محاذ پر اپنا مقدمہ لڑے گی۔عدالتی محاذ ہو یا سیاسی محاذ۔۔ ہر محاذ پر حکومت اپنی لڑائی لڑے گی اور آئین اور قانون کی بلادستی قائم کرے گی۔ہم نے پہلے بھی تمام محاذوں پر لڑا ہے اور ماضی میں پیدا ہونے والی ہر صورتحال پر قابو پایا ہے اور اس بار بھی صورتحال پر قابو پالیں گے۔ صدر صاحب ملک نہیں چھوڑیں گے اور پہلے کی طرح اب بھی ملک میں رہ کر تمام چیلنجوں سے نمٹیں گے۔"

فرحت اللہ بابر،صدارتی ترجمان

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ اگر عدالت حکم دے تو ان افراد کو گرفتار کیا جا سکتا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے پاس لوگوں کو گرفتار کرنے کا اختیار ہے تو پھر عدالتی احکامات کی کیا ضرورت ہے۔ بعد ازاں عدالت نے ان افراد کی گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے اس مقدمے کی سماعت سترہ جنوری تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے تیس مارچ دو ہزار بارہ کو کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمے کے فیصلے میں تمام بجلی گھروں کے معاہدوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان معاہدوں فوری طور پر منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ معاہدے کرنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

فیصلے میں عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ سابق وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف اور سیکریڑی خزانہ سمیت تمام حکومتی اہلکاروں نے بادی النظر میں آئین کے تحت شفافیت کے اصول کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا ان افراد کی طرف سے بدعنوانی اور رشوت ستانی میں ملوث ہوکر مالی فائدہ حاصل کرنے کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔

احتجاج اور سٹاک مارکیٹ میں مندی

رینٹل پاور کیس میں سپریم کورٹ کی جا نب سے وزیراعظم سمیت سولہ افراد کی گرفتاری کے حکم کے بعد صوبہ سندھ کے کئی شہروں میں احتجاج ہوا ہے۔

یہ حکم آنے کے بعد حیدرآباد، دادو، لاڑکانہ، میرپور خاص، ٹھٹہ ، جامشورو، کوٹری ، خیر پور اور جیکب آباد سمیت متعدد شہروں میں نامعلوم افراد نے اندھادھند ہوائی فائر نگ کی جس سے بھگدڑ مچ گئی۔

فائرنگ کے بعد کاروبار بند ہوگیا اور سڑکوں سے گاڑیاں غائب ہو گئیں۔ حیدرآباد میں فائرنگ کے بعد رینجرز نےگشت بھی شروع کر دیا ہے۔

حیدرآباد میں جہاں سندھ پیپلز یوتھ کے کارکنوں نے ایک جلوس بھی نکالا جس میں صدر زرداری اور وزیراعظم کی حمایت اور سپریم کورٹ کی مخالفت میں نعرے لگائے گئے جبکہ مسلم لیگ ہم خیال کے کارکنوں نے بھی ایک جلوس نکالا جس میں سپریم کورٹ اور طاہر القادری کی حمایت میں نعرے بازی کی گئی۔

ادھر وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی گرفتاری کے حکم پر کراچی سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے اور کے ایس ای ہنڈرڈ انڈیکس میں پانچ سو پچیس پوائنٹ کی کمی ہوئی ہے۔

اسٹاک ایکسچینج میں موجود ایک بروکر یعقوب حبیب کے مطابق گرفتاری کی خبر نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کردی جس کے بعد چھوٹے سرمایہ کاروں نے تیزی سے شئیر بیچنے شروع کر دیے مگر یہ کہنا بالکل درست نہیں کہ مارکیٹ نے کریش کیا ہے۔

یعقوب حبیب کے مطابق مارکیٹ آٹھ سو پوائنٹ کی گراوٹ پر کریش کرتی ہے جبکہ اس وقت انڈیکس میں پانچ سو پچیس پوائنٹ کی کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہفتہ پہلے بھی تحریک منہاج القرآن کے رہنما طاہر القادری کے بیانات نے مارکیٹ پر منفی اثر ڈالا اور کے ایس ای ہنڈرڈ انڈیکس تین سو نوے پوائنٹ نیچے گرا تھا۔

اس حوالے سے سینیئر صحافی قیصر محمود کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے نے مارکیٹ میں قیمتیں گرنے کے خلاف مزاحمت کو بری طرح متاثر ضرور کیا مگر نہ تو مارکیٹ کریش ہوئی ہے اور نہ ہی آئندہ چند دنوں میں اس کا امکان نظر آتا ہے۔ ان کے اندازے کے مطابق انڈیکس میں آنے والے دنوں میں ایک سے ڈیڑھ ہزار پوائنٹس کی کمی ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔