’حقانی کو اثاثہ کہنے والے پاکستان کے نمائندے نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 16 جنوری 2013 ,‭ 06:30 GMT 11:30 PST

حنا ربانی کھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کے لیے نیو یارک میں ہیں۔

پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ جو بھی شخص یہ کہتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک ’پاکستان کا اثاثہ‘ ہے وہ پاکستانی حکومت کا نمائندہ نہیں ہے۔ اور ’نہ ہی موجودہ وقت میں ایسے خیالات جنرل کیانی کے ہیں‘۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے منگل کی شام نیویارک میں معروف تھنک ٹنک ایشیا سوسائٹی میں’پاکستان کا جمہوری سفر‘ کے عنوان سے منعقدہ مذاکرے سے خطاب کیا۔

اس مذاکرے کے بعد امریکی ہفت روزہ ٹائم میگزین کے سیاسی کالم نگار جو کیلن جو پروگرام کے موڈریٹر کی طور پر خدمات سر انجام دے رہے تھے ان سے سوال کیا۔ جو کیلن کا سوال چار سال قبل پاکستان فوج کے موجودہ سربراہ جنرل کیانی کے نیویارک ٹائمز کو دیے گۓ انٹرویو میں مبینہ طور پر بیان کے بارے میں تھا جس میں مبینہ طور پر انہوں نے کہا تھا کہ وہ حقانی نیٹ ورک کو پاکستان کا ’اثاثہ‘ سمجھتے ہیں۔

حنا ربانی کھر نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ وہ نہیں جانتی کہ یہ کس نے کہا اور جو بھی یہ کہتا ہے وہ پاکستان کی حکومت کا نمائندہ نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اب جنرل کیانی ایسا نہیں سمجھتے۔

امریکی کالم نگار کے ایک اور سوال کہ حقانی نیٹ ورک کے لوگ پاکستان کی سرحد سے پار کر کے افغسانستان میں امریکی فوجوں پر حملے کرتے ہیں کے جواب میں حنا ربانی کھر نے کہا کہ حقانی بھی ان تیس لاکھ افغان مہاجرین میں سے ایک ہے جو پاکستان پر بوجھ ہیں۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی

حنا ربانی کھر نے کہا کہ وہ نہیں جانتی کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی امریکہ کے لیے کام کر رہے تھے کہ نہیں لیکن وہ جانتی ہیں کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی انتہا پسند گروہوں کے لیے کام کررہے تھے جو سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرتے ہیں۔

ان تیس لاکھ افغان مہاجرین کو پاکستان سے واپس بلا لیا جائے تو حقانی بھی ان میں سے چلے جائيں گے۔ کون جانتا ہے کہ وہ کل نیویارک شہر میں آ کر بس جائیں۔

جو کیلن کے علاوہ سامعین نے بھی سوالات کیے جن میں سے ایک سامع کے اس سوال پر کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی جس نے اسامہ بن لادن کی کھوج میں امریکہ کی مدد کی تھی اس کو آپ نے عمر قید کی سزا دی ہوئی ہے حنا ربانی کھر نے کہا کہ وہ نہیں جانتی کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی امریکہ کے لیے کام کر رہے تھے کہ نہیں لیکن وہ جانتی ہیں کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی انتہا پسند گروہوں کے لیے کام کررہے تھے جو سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرتے ہیں۔

وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ ایبٹ آباد جسے پاکستانی ویسٹ پوائنٹ (امریکی فوج کا مرکز) کہا جا سکتا ہے سے چند میلوں کے مقاصلے پر چھپے ہوئے اسامہ بن لادن کی موجودگی کا پاکستان کو پیشگی علم تھا۔

اسلام آباد میں طاہرالقادری کے دھرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کینیڈا کی تفریح سے لوٹ کر آنے والی ایک شخصیت اگر ایسا مطالبہ کسی بھی اور ملک میں کریں تو گرفتار ہوجائيں کیونکہ وہ جمہوری نظام کو لپیٹنے اور آئین و قانون سے ماورا باتیں کر رہے ہیں۔حنا ربانی کھر کے بقول یہ جمہوریت کا حسن ہے کہ انکی حکومت نے انکو دھرنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس خیال کو رد کیا کہ طاہرالقادری کو پاکستان میں لوگوں کی خاصی حمایت حاصل ہے۔

طاہر القادری

حنا ربانی کھر نے کہا کہ کینیڈا کی تفریح سے لوٹ کر آنے والی ایک شخصیت اگر ایسا مطالبہ کسی بھی اور ملک میں کریں تو گرفتار ہوجائيں کیونکہ وہ جمہوری نظام کو لپیٹنے اور آئین و قانون سے ماورا باتیں کر رہے ہیں۔حنا ربانی کھر کے بقول یہ جمہوریت کا حسن ہے کہ انکی حکومت نے انکو دھرنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس خیال کو رد کیا کہ طاہرالقادری کو پاکستان میں لوگوں کی خاصی حمایت حاصل ہے۔

انہوں نے حکومت پر سپریم کورٹ میں بدعنوانی کے الزامات کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا کہ بدعنوانی ایک عالمگیر مسئلہ ہے لیکن حکومت اسکے انسداد میں موثر اقدامات کرتی رہی ہے۔

اس سے قبل بھارت سے تعلقات کے حوالے سے اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ انکی حکومت نے ہمسائیوں کی جانب ذہنیت کو تبدیل کیا ہے جبکہ جنگی جنون اور پر امن بقائے باہمی کے ضمن میں دونوں ممالک کو دشوار چیلنجز کے بارے میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر لانس نائیک اسلم کی پہلی ہلاکت کا مسئلہ پاکستان نے بغیر پر امن ماحول کشیدہ کیے اٹھایا ہے کیونکہ باشعور ممالک بات چیت کے دوازے بند نہیں کیا کرتے۔

دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ امریکہ کو اس کے استحکام کی ضمانت نہیں دے سکتیں کیونکہ جو بیج تیس سال قبل بویا گیا تھا وہ ابھی مکمل طور پر ختم نہں ہوا اسے ختم کرنے کی ضروت ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ کاش وہ ایسی ضمانت دے سکتیں، کاش وہ کہہ سکتی کہ تیس لاکھ افغان مہاجرین اپنے وطن لوٹ کر خوش و خرم ہیں، کاش وہ ایسا کہہ سکتی لیکن ایسا نہیں ہے۔ لیکن وہ یہ کہہ سکتی ہيں کہ دہشتگردی سے پاکستان عدم استحکام کا شکار ہوگیا ہے کہ اس نے اپنے چالیس ہزار شہریوں اور سات ہزار فوجیوں اور نیم فوجیوں کی جانیں گنوائيں ہیں اور ستر ارب ڈالر سے زائد کے اقتصادی نقصانات اٹھائے ہیں۔

دہشت گردی کی جنگ

حنا ربانی کھر نے کہا کہ وہ امریکہ کو دہشت گردی کی جنگ کے استحکام کی ضمانت نہیں دے سکتیں کیونکہ جو بیج تیس سال قبل بویا گیا تھا وہ ابھی مکمل طور پر ختم نہں ہوا اسے ختم کرنے کی ضروت ہے ۔

انہوں نے پاکستان کو امریکہ سے ملنے والی امداد کے حوالے سے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور مارک گراسمین نے پاکستان کو امداد دلوانے میں بہت کردار ادا کیا جبکہ اب توانائی اور تعلیم کے شعبوں میں امداد دی جارہی ہے۔

انہوں نے اس بات کو سختی سے رد کیا کہ پاکستان میں تعلیم کے مد میں این جی اوز کے ذریعے امداد دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے الٹا سوال کیا کہ کیا امریکہ کے اسکولوں میں تعلیم این جی اوز کے ذریعے پھیلائي جاتی ہے؟ تو انہیں بتایا گیا کہ اصل میں امریکہ کے کئی بڑے شہروں میں اسی مقصد کے لیے قائم کیے گیے چارٹرڈ اسکول یہ کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے اسکی تصدیق کی کہ افغانستان کی حکومت کی درخواست پر پاکستان طالبان اور دوسرے گروہوں اور افغان حکومت کے درمیان ہونے والے براہ راست مذکرات میں مددگار یا فیسیلیٹیٹر کا کردار ادا کر رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔