’طاہر القادری کے اقدامات کی مخالفت‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 16 جنوری 2013 ,‭ 17:31 GMT 22:31 PST
طاہر القادری

پاکستان میں طاہر القادری حکومت مخالف لانگ مارچ کررہے ہیں

پاکستان میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر سیاسی جماعتیں منقسم نظر آتی ہیں بعض جماعتیں طاہر القادری کے موقف اور مارچ سے اتفاق کرتی ہیں جبکہ پارلیمان میں موجود جماعتیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔ وہاں خواتین کی تنظیمیں کھل کی ان اقدامات کی مخالفت کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔

پاکستان میں خواتین حقوق کے لیے سرگرم تنظیم وومین ایکشن فورم نے کہا ہے کہ ایک جمہوری منتخب حکومت کے خلاف چلائی جانے والی تحریک دراصل عوام کے دستوری حقوق پر شب خون مارنے کی سازش ہے۔

کراچی میں وومین ایکشن فورم کی رہنما انیس ہارؤن، مہناز رحمان اور عطیہ داؤد نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت پر عوام کا بھروسہ ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ جمہوری سیاسی عمل اور پارلیمنٹ ہی تمام آئینی تبدیلیوں کا مجاز ادارہ ہے۔

وومین ایکشن فورم کا قیام جنرل ضیالاحق کی آمریت کے دوران عمل میں آیا تھا۔ یہ تنظیم 1983 میں اس وقت سیاسی افق پر ابھری تھی جب آمرانہ قوانین کے خلاف احتجاج کیا گیا اور اس دوران کئی خواتین رہنما گرفتار ہوئیں اور نامور عوامی شاعر حبیب جالب زخمی ہوگئے تھے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق انیس ہارؤن کا کہنا تھا کہ ایک منتخب حکومت کو مستعفی قرار دینا عوام کی ہتک اور شہریوں کے ووٹ کے جمہوری حق کی نفی کے مترادف ہے۔

’ہم طاہر القادری کے غیر آئینی مطالبات اور ایک غیر منتخب سول، ملٹری، ٹیکنو کریٹس کی عبوری حکومت کے قیام کی مخالفت کرتے ہیں، ایسے اقدامات نے ہمیشہ جمہوریت اور عوام کی شمولیت کو ریاست سے دور کیا ہے‘۔

ان خواتین رہنماؤں نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اس موقعے پر اپنا کردار ادا کریں اور لوگوں کے مینڈیٹ کے مطابق ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہو کر شہری حقوق کا تحفظ کریں۔

انیس ہارؤن، مہناز رحمان اور عطیہ داؤد کا کہنا تھا کہ متفقہ بیسویں ترمیم کے نتیجے میں بننے والے الیکشن کمیشن کا ہی اختیار ہے کہ وہ مروجہ اصولوں کے مطابق ایک غیر جانبدار عبوری حکومت قائم کرے اور انتخابات کروائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک مذہبی گروہ جو رجسٹرڈ سیاسی جماعت بھی نہیں ہے، جمہوری عمل کے تحت بننے والے قوانین کو چیلنج نہیں کر سکتا اور نہ ہی انتخابی عمل کو فائدے کے لیے استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے‘۔

خواتین رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ سڑکوں پر بھی نکلنے سے گریز نہیں کریں گی۔ واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ بار کے بعد وومین ایکشن فورم، سول سوسائٹی کی دوسری جماعت ہے جس نے طاہر القادری کے لانگ مارچ اور ممکنہ غیر آئینی اقدامات کی مخالفت کی ہے

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔