’لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کم کرنے پر اتفاق‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 16 جنوری 2013 ,‭ 15:01 GMT 20:01 PST

آئی ایس پی آر کے مطابق تیسری بار بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ اور اس بلا اشتعال فائرنگ سے فوجی نائک اشرف ہلاک ہوئے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کم کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

دونوں ممالک کی فوج کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشن یعنی ڈی جی ایم او کے درمیان بدھ کی صبح ہاٹ لائن پر دس منٹ تک بات چیت ہوئی جس میں کشیدگی کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

بھارتی فوج کے ترجمان کرنل جگدیپ دہیا نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستانی فوج کے ڈی جی ایم او میجر جنرل اشفاق ندیم نے اپنی فوج کو لائن آف کنٹرول پر فائربندی پر سخِتی سے عمل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ترجمان نے بھی تصدیق ہے کہ پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشن نے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

اس سے پہلے پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق بدھ کو پاکستانی فوج کے ڈائریکٹر ملٹری آپریشن نے اپنے بھارتی ہم منصب سے ہاٹ لائن پر منگل کی رات کشمیر کے متنازع علاقے کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر ایک پاکستانی فوجی کی ہلاکت پر شدید احتجاج کیا ہے۔

منگل کی رات آئی ایس پی آر کے مطابق لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی ’بلا اشتعال فائرنگ سے ایک پاکستانی فوجی نائیک اشرف ہلاک ہو گئے تھے‘۔

آئی ایس پی آر کے مطابق تیسری بار بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ واقعہ لائن آف کنٹرول کے علاقے تتہ پانی کے جندروٹ سیکٹر میں پیش آیا جس پر پاکستانی ڈی جی ایم او یا ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے بدھ سولہ جنوری کو پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے نو بجے ہاٹ لائن پر یہ احتجاج کیا۔

اس سے قبل چودہ جنوری کو لائن آف کنٹرول پر حالیہ فائرنگ کے واقعات پر پاکستان نے دونوں ممالک کی فلیگ میٹنگ کے دوران بھی بھارت سے پاکستانی فوجیوں پر لگائے گئے الزامات پر شدید احتجاج کیا تھا۔

لائن آف کنٹرول پر پاکستانی اور بھارتی فوجوں کے درمیان جھڑپوں کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث پیر چودہ جنوری کو دونوں فوجوں کے درمیان ایل او سی پر بریگیڈ سطح کا اجلاس ہوا۔

"پاکستان کے ساتھ تعلقات اب پہلے جیسے رہ سکتے۔ جو لوگ اس کے لیے ذمہ دار ہیں انہیں سزا ملنی چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ پاکستان اس بات کو سمجھےگا۔"

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ

یاد رہے کہ گیارہ جنوری کو بھارتی فوج کی پاکستانی چوکی پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک پاکستانی فوجی ہلاک ہو گیا تھا جبکہ چھ جنوری کو بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستانی چوکی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک پاکستانی فوجی ہلاک ہو گیا۔

اسی طرح آٹھ جنوری کو بھارتی فوج نے الزام لگایا کہ پاکستانی فوج نے میندھر کے علاقے میں دو بھارتی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔ جس الزام کی پاکستان تردید کرتا ہے۔

چودہ جنوری ہی کو بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بکرم سنگھ نے کہا تھا کہ منگل کے روز کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی فوج نے منظم انداز میں کارروائی کی تھی جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’ہم اپنی پسند کے وقت اور اپنی پسند کی جگہ پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے کمانڈروں سے اشتعال انگیزی کی صورت میں جارحانہ رویے کی توقع رکھتے ہیں۔

اسی طرح بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے منگل کو ان واقعات پر اپنے رد عمل میں کہا ’پاکستان کے ساتھ تعلقات اب پہلے جیسے رہ سکتے۔ جو لوگ اس کے لیے ذمہ دار ہیں انہیں سزا ملنی چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ پاکستان اس بات کو سمجھےگا۔‘

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے چھ جنوری کے واقعے کے بعد باضابطہ شکایت بھی کی ہوئی ہے اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی شکایت پر تحقیقات کی جائیں گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔