اسلام آباد: طاہر القادری کے خلاف مقدمہ درج

آخری وقت اشاعت:  بدھ 16 جنوری 2013 ,‭ 13:18 GMT 18:18 PST

اسلام آباد پولیس نے تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری سمیت ان کی تنظیم کے چوبیس کارکنوں کے خلاف پولیس پر حملے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں ڈاکٹر طاہر القادری اور ان کے دو درجن ساتھیوں پر پولیس اہلکاروں پر حملہ کر کے زخمی کرنے، بلوے، کار سرکار میں رکاوٹ ڈالنے، جرم کی اعانت کرنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور غیر قانونی طور پر لوگوں کو اکٹھا کرنے کے الزامات ہیں۔

اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ ایف آئی آر بھارہ کہو تھانے کے ایس ایچ او انسپکٹر محبوب احمد کی درخواست پر کوہسار تھانے میں درج کی گئی ہے۔

منگل کو ڈاکٹر قادری کے لانگ مارچ کے شرکاء اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جس پر پولیس نے آنسو گیس پھینکی تھی اور گولیاں بھی چلیں تھیں۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں تھانہ بھارہ کہو کے انچارج انسپکٹر محبوب بھی شامل تھے۔

پولیس ذرائع کے مطابق مظاہرین نے پولیس پر پہلے فائرنگ کی اور ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی جس کو روکنے کے لیے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا جس کے نتیجے میں چھ مظاہرین کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

طاہر القادری نے اسلام آباد میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ ایف آئی آر وزیر داخلہ رحمان ملک کے حکم پر درج کی گئی ہے اور یہ کہ ’میں اس ایف آئی آر کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہو‘۔

طاہر القادری کی قیادت میں ان کے ہزاروں حامیوں نے پیر سے اسلام آباد میں دھرنا دے رکھا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت اور پارلیمینٹ تحلیل کی جائے اور فوج اور عدلیہ کی مشاورت سے غیرجانبدار نگراں حکومت تشکیل دی جائے جو انتخابی اصلاحات کے بعد عام انتخابات کرائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔