سات نکاتی مطالبات، حکومت کو دوبارہ مہلت

آخری وقت اشاعت:  بدھ 16 جنوری 2013 ,‭ 10:30 GMT 15:30 PST

اس خطاب کے لیے اسلام آباد میں سخت سکیورٹی کی گئی ہے۔

تحریک منہاج القرآن کے سربراہ طاہر القادری نے اسلام آباد میں مارچ میں شریک مظاہرین سے اپنے خطاب کا دوسرا حصہ بدھ کو مکمل کیا جسے انہیں منگل کو وزیراعظم کی گرفتاری کے احکامات کے اجراء کے بعد ادھورا چھوڑنا پڑا۔

طاہر القادری نے کہا کہ ان کے مطالبات وہی ہیں جو تئیس دسمبر کو تھے انہوں نے مزید بات کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ اس حکومت کے جانے میں کچھ دن رہ گئے ہیں۔

انہوں نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے حکومت کو ایک بار پھر آج یعنی بدھ کی رات تک کی مہلت دی کہ ان کے سات نکاتی مطالبات پر عمل کیا جائے۔ ان مطالبات میں ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ تمام اسمبلیاں تحلیل کی جائیں اور الیکشن کمیشن بھی از سرِ نو تشکیل دیا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ لاہور میں پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف نے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو موجودہ صورتحال پر مشاورت کے لیے مدعو کیا ہے جن میں جماعت اسلامی کے سید منور حسن، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی بھی شامل ہیں۔

بدھ کی صبح عوامی نیشنل پارٹی کے ایک وفد نے غلام احمد بلور اور اعظم خان ہوتی کی قیادت میں میاں نواز شریف سے لاہور میں ملاقات کی۔

گزشتہ روز منگل کو تحریک منہاج القرآن کے سربراہ طاہر القادری نے اسلام آباد میں ہزاروں افراد کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے سات نکاتی ایجنڈے کا آخری نکتہ اسمبلیوں کی تحلیل ہے آور وہ اپنا حق لیے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک قانونی مارچ ہے جس کا مقصد ملک کو تباہی سے بچانا ہے اور ہم حقیقی جمہوریت کے خواہاں ہیں جبکہ پاکستان میں صرف دو ادارے کام کر رہے ہیں ایک فوج اور دوسرا عدالت عظمیٰ ہے‘۔

دوسری جانب وزیراعظم پاکستان نے بھی گزشتہ روز کہا تھا کہ کسی غیر آئینی اقدام یا جمہوری عمل کو پٹڑی سے اتارنے کی کسی بھی کوشش سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

وزیراعظم ہاؤس سے منگل کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے منگل کی صبح ملک کی موجودہ صورتحال پر حکومت کی اتحادی جماعتوں اور میاں نواز شریف سمیت اہم سیاسی رہنماؤں سے مشاورت کی۔

اس مشاورت میں تمام رہنماؤں میں آئین اور جمہوری نظام کے تحفظ پر اتفاقِ رائے پایا گیا اور سیاسی قیادت اس بات پر بھی متفق نظر آئی کہ آئین کو نقصان پہنچانے، جمہوری عمل کو ختم کرنے یا کوئی بھی غیرآئینی اقدام کرنے کی کوششوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اسے اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔

گزشتہ روز ہی سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کسی بھی غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بروقت عام انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور عام انتخابات میں تاخیر کی اجازت کسی صورت میں نہیں دی جائے گی۔

منگل کی صبح کے وقت مارچ میں شامل ان مظاہرین اور پولیس کے درمیان کچھ دیر کے لیے تصادم ہوا جس میں آنسو گیس کا استعمال کیا گیا اور ہوائی فائرنگ بھی ہوئی۔

پولیس ذرائع نے بی بی سی کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں تھانہ بارہ کہو کے انچارج انسپکٹر محبوب بھی شامل ہیں۔

پولیس زرائع کے مطابق مظاہرین نے پولیس پر پہلے فائرنگ کی اور ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی جس کو روکنے کے لیے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا جس کے نتیجے میں چھ مظاہرین کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے اس سے پہلے سوموار کی رات کو کہا تھا کہ طاہر القادری ساتھیوں سمیت جتنے دن چاہیں بیٹھے رہیں لیکن انہیں ریڈ زون میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔

طاہر القادری کا ’جمہوریت مارچ‘ اتوار کی دوپہر لاہور سے شروع ہوا تھا اور وہ تقریبًا چھتیس گھنٹے کے سفر کے بعد پیر کو رات گئے مارچ کے ہزاروں شرکا کے ہمراہ اسلام آباد میں پارلیمان کی جانب جانے والی سڑک جناح ایونیو پر پہنچے جہاں جلسے کا انتظام کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔