باڑہ: ہلاک شدگان کی لاشیں ورثاء کے حوالے

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 17 جنوری 2013 ,‭ 14:36 GMT 19:36 PST

ان افراد کی لاشیں حکام نے مزاکرات کے بعد ورثاء کے حوالے کیں جن کی اب تدفین کی جائے گی

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں ہلاک ہونے والے اٹھارہ افراد کی لاشیں پولیٹکل انتظامیہ نے پندرہ گھنٹوں کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی ہیں۔

ان لاشوں کو اپنے آبائی علاقوں میں سپرد خاک کر دیا جائے گا جبکہ آج پشاور میں مختلف مقامات پر مظاہرین نے احتجاج کیا ہے۔

مظاہرین اور انتظامیہ کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد ان لاشوں کو انتظامیہ نے ورثاء کے حوالے کی۔

یاد رہے کہ گزشتہ رات پشاور پولیس نےگورنر ہاؤس کے سامنے مظاہرین کو منتشر کر کے یہ لاشیں پولیٹکل انتظامیہ کے حوالے کر دی تھیں۔

مظاہرین کے ایک رہنما مقبلی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات ہوئے ہیں اور ان کے مطالبات کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے ۔ یہ کمیٹی مطالبات پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔ انھوں نے کہا کہ آج رات تک لاشوں کی تدفین مکمل کر لی جائے گی۔

پشاور کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس عمران شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ کل رات گورنر ہاؤس کے سامنے گورنر سے مذاکرات کے باوجود مظاہرین نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ایسی اطلاعات بھی تھیں کہ بعض گاڑیاں اور افراد سکیورٹی کلیئرنس کے بغیر پشاور میں داخل ہوئے ہیں اور چونکہ یہ افراد ریڈ زون میں دھرنا دیے ہوئے تھے اس لیے پولیس کو ان کے خلاف کارروائی کرنا پڑی تھی۔

پولیس کے مطابق جمعرات کی صبح کوئی تین سو کے لگ بھگ مظاہرین نے پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔ اس دوران پولیس نے مظاہرین کب پہلے احتجاج کی اجازت دی مگر جب یہ سلسلہ طول دینے لگا تو پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا لیکن مظاہرین اور پولیس کے درمیان یہ آنکھ مچولی شام تک جاری رہی۔

یاد رہے کہ منگل کو دوپہر کے وقت خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں عالم گودر کے مقام پر اٹھارہ افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں سات افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔

اس خاندان کے بچ جانے والے ایک رکن رحیم شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وردی پہنے ہوئے افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے اور شناختی کارڈ دیکھ کر ان کو اور ان کے بھائیوں، بھتیجوں کو ایک کمرے میں بٹھا کر فائرنگ شروع کر دی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔