باڑہ ہلاکتیں: ’آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیئیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 17 جنوری 2013 ,‭ 13:37 GMT 18:37 PST

پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں بیس شہریوں کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ورثاء کے ان دعوؤں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کا دعویٰ ہے کہ ان افراد کو سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ہلاک کیا۔

جمعرات کو ایچ آر سی پی کی چیئرپرسن زہرہ یوسف کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کے ورثاء نے لاشوں سمیت پہلے پشاور پریس کلب اور بعد میں گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

ان ورثاء میں سے بہت ساروں نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کے پیارے فوج کی تحویل میں تھے اور اس کے بعد ان کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز پر ان ہلاکتوں کا الزام ایک سنگین الزام ہے اور اس کی آزادانہ اور ایسی تحقیقات ہونی چاہیئیں جس پر ہلاک ہونے والے افراد کے ورثاء کا مکمل اعتماد ہو۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں سے زیادہ حکومت اور سکیورٹی فورسز کو ان ہلاکتوں کے اسباب کی آزادانہ تحقیقات کرانے میں دلچسپی ہونی چاہیے۔

زہرہ یوسف کے مطابق پاکستان میں ایسے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر توجہ دلانے کے لیے پر امن طریق پر باہر نکلنے کا فیصلہ کر رہے ہیں اور اعلیٰ حکام کی توجہ کے حصول تک اپنے پیاروں کو دفنانے سے انکار کررہے ہیں۔

تدفین سے انکار

زہرہ یوسف کے مطابق پاکستان میں ایسے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر توجہ دلانے کے لیے پر امن طریق پر باہر نکلنے کا فیصلہ کر رہے ہیں اور اعلیٰ حکام کی توجہ کے حصول تک اپنے پیاروں کو دفنانے سے انکار کررہے ہیں۔ اس صورتِ حال سے تصور کیاجا سکتا ہے کہ چیزیں کتنی خراب ہوتی ہیں جب زیادہ سے زیادہ لوگ یہ راستہ اختیار کرنا شروع کرتے ہیں۔

ایچ ار سی پی کے بیان کے مطابق اس صورتِ حال سے تصور کیاجا سکتا ہے کہ چیزیں کتنی خراب ہوتی ہیں جب زیادہ سے زیادہ لوگ یہ راستہ اختیار کرنا شروع کرتے ہیں۔

ایچ آر سی پی نے مزید کہا کہ ان لوگوں کے خلاف آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے استعمال کی بجائے ان کی مطالبات کو نرمی سے سننا چاہیے۔

آیچ آر سی پی نے خیبر ایجنسی میں ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام کا خیر مقدم کیا اور توقع ظاہر کی کہ ماضی میں ایسے معاملات کے حوالے سے قائم کردہ کمیشز کے برعکس اس بار تحقیقات کے نتائج سامنے لائے جائیں گے۔

خیال رہے کہ منگل کو پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ کے قریب سے ملنے والی اٹھارہ لاشوں کو لے کر ورثاء پشاور میں گورنر ہاؤس کے سامنے پہنچے تھے جہاں انہوں نے کافی دیر احتجاج کیا۔

بدھ کی رات کو پشاور میں پولیس نے دھرنا دینے والے افراد کو طاقت کے زور پر منتشر کرنے کے بعد لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا تھا۔

خیبر پختون خوا کے گورنر نے ان ہلاکتوں کے حوالے سے خودمختار انکوائری کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اختیارات سے تجاوز کرنے والے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔