کشمیر:بھارتی وزیرِخارجہ کو مذاکرات کی پیشکش

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 17 جنوری 2013 ,‭ 04:46 GMT 09:46 PST

ایل او سی پر کشیدگی جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے مفاد میں نہیں: حنا ربانی کھر

پاکستان کی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے کشمیر کے متنارع علاقے کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر حالیہ کشیدگی کے حل کے لیے اپنے بھارتی ہم منصب کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔

کنٹرول لائن پر دو طرفہ فائرنگ کے واقعات میں اب تک پاکستان اپنے تین جبکہ بھارت دو فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کرتا ہے۔

یہ بات انہوں نے بدھ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں سکیورٹی کونسل کے باہر پاکستانی میڈیا کے اراکین کے ایک گروپ سے بات چیت اور بعد میں ایک امریکی تھنک ٹینک میں سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہی۔

نیویارک میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق حنا ربانی کھر نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے مفاد میں نہیں ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاملے پر بھارتی ذرائع ابلاغ اور کچھ بھارتی رہنماؤں کا منفی رویہ مایوس کن ہے اور ایسے بیانات کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اشتعال انگيز بیانات کے بجائے وہ یہ مشورہ دیں گی کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی سمیت تمام متعلقہ مسائل کے لیے وزرائے خارجہ کی سطح کے اجلاس میں دونوں ممالک فائربندی کے نفاذ سمیت مسائل کا تصفیہ کر سکتے ہیں جو کہ جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کیلیے بہت ضروری ہے۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے اس معاملے پر خطے میں امن کو مقدم رکھتے ہوئے اس معاملے پر بیان بازی میں جان بوجھ کر محتاط رویہ اپنایا ہے۔

حنا ربانی کھر کے مطابق پاکستان نے بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے خصوصی کوششیں کی ہیں اور وہ مذاکرات کے عمل کو تعمیری انداز میں آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستانی اور بھارتی افواج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا تھا جس میں صورتحال پر قابو پانے پر اتفاقِ رائے ہوا تھا۔

بھارتی فوج کے ترجمان کرنل جگدیپ دہیا نے بدھ کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ پاکستانی فوج کے ڈی جی ایم او میجر جنرل اشفاق ندیم نے اپنی فوج کو لائن آف کنٹرول پر فائربندی پر سختی سے عمل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ترجمان نے بھی تصدیق ہے کہ پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشن نے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔