رینٹل پاور:’ریفرنس ٹھوس ثبوت کے بغیر بنائے گئے ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 17 جنوری 2013 ,‭ 06:23 GMT 11:23 PST

اگر اس رپورٹ کی بنیاد پر ریفرنس دائر کیا گیا تو ملزمان رہا ہو جائیں گے: فصیح بخاری

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کرائے کے بجلی گھروں سے متعلق قومی احتساب بیورو کی جانب سے پیش کی جانے والی تفتیشی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔

سپریم کورٹ نے نیب کے چیئرمین سے کہا ہے کہ وہ 23 جنوری تک اس مقدمے میں ہونے والی تفتیش کے بارے میں جامع رپورٹ پیش کریں۔

عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ چیئرمین نیب دو ہزار چھ سے لے کر اب تک کرائے کے بجلی گھروں سے متعلق جتنے بھی معاہدے ہوئے ہیں اُن میں سے کتنے معاہدے قانونی تقاضوں کے مطابق اور کتنے غیر قانونی ہیں، وہ اس بارے میں عدالت کو آگاہ کریں۔

نیب کے سربراہ ایڈمرل (ر) فصیح بخاری نے کرائے کے بجلی گھروں کے بارے میں ہونے والے معاہدوں کے مقدمے میں جمعرات کو سپریم کورٹ میں اپنے ادارے کی ہی تفتیشی رپورٹ کو ناقص قرار دیا۔

چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پندرہ جنوری کو اسی رپورٹ کی بنیاد پر وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سمیت سولہ افراد کی گرفتاری کے احکامات دیے تھے جن پر اب تک عملدرآمد نہیں ہوا۔

سماعت کے دوران نیب کے چیئرمین ایڈمرل (ر) فصیح بخاری نے عدالت کو بتایا کہ راجہ پرویز اشرف سمیت دیگر ملزمان کے خلاف اس معاملے میں ریفرنس ٹھوس ثبوت کے بغیر بنائے گئے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نیب کے ایڈیشنل پراسکیوٹر جنرل رانا زاہد محمود نے پندرہ جنوری کو جو رپورٹ پیش کی تھی اُس میں کہا گیا تھا کہ ملزمان کے خلاف شواہد اکھٹے کیے جاچکے ہیں اس لیے اُن کے خلاف ریفرنس کی منظوری نیب کے ایگزیکٹو بورڈ سے لی جائے گی۔

سترہ جنوری کو پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کے خلاف کرائے کی بجلی گھروں کے مالکان کو سات فیصد سے لے کر چودہ فیصد ایڈوانس رقم کی ادائیگی سے متلعق کوئی ثبوت نہیں ملے۔

فصیح بخاری کا کہنا تھا کہ ان افراد پر قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ثابت نہیں ہو سکا اور تفتیشی افسران نے ریکارڈ میں پہلو تہی کی ہے۔

"نیب کے ایڈیشنل پراسکیوٹر جنرل رانا زاہد محمود نے پندرہ جنوری کو جو رپورٹ پیش کی تھی اُس میں کہا گیا تھا کہ ملزمان کے خلاف شواہد اکھٹے کیے جاچکے ہیں اس لیے اُن کے خلاف ریفرنس کی منظوری نیب کے ایگزیکٹو بورڈ سے لی جائے گی۔ سترہ جنوری کو پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کے خلاف کرائے کی بجلی گھروں کے مالکان کو سات فیصد سے لے کر چودہ فیصد ایڈوانس رقم کی ادائیگی سے متلعق کوئی ثبوت نہیں ملے۔"

چیف جسٹس

چیئرمین نیب نے عدالت کو بتایا کہ وہ تحقیقات کا معاملہ یہاں پر بیان نہیں کرسکتے کیونکہ ملزمان خبردار ہو جائیں گے اور اگر عدالت چاہے تو وہ چیمبر میں بیان دینے کو تیار ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عبوری تفتیش میں تفتیشی افسران ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکے ہیں اور اگر اسی رپورٹ کی بنیاد پر ریفرنس دائر کیا گیا تو ملزمان رہا ہو جائیں گے۔

چیف جسٹس نے چیئرمین نیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت سمجھتی ہے کہ وہ مختلف وجوہات کی بناء پر ملزمان کے خلاف کارروائی سے گُریز کر رہے ہیں۔ چیئرمین نیب نے عدالت کے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ وہ تفتیش میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بینچ کے رکن جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ رپورٹ استغاثہ کی بجائے وکیلِ صفائی نے تیار کی ہے۔

عدالت نے نیب کو مقدمے کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا جس پر پراسیکیوٹر جنرل کے کے آغا نے اعتراض کیا۔ اس اعتراض کے جواب میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ پہلی مرتبہ یہ ریکارڈ نہیں دیکھ رہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی ریکارڈ کی روشنی میں اس مقدمے کا فیصلہ سنایا گیا تھا اور نیب کو ملزمان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے تیس مارچ دو ہزار بارہ کو کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمے کے فیصلے میں تمام بجلی گھروں کے معاہدوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان معاہدوں کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ معاہدے کرنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

فیصلے میں عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ سابق وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف اور سیکریڑی خزانہ سمیت تمام حکومتی اہلکاروں نے بادی النظر میں آئین کے تحت شفافیت کے اصول کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا ان افراد کی طرف سے بدعنوانی اور رشوت ستانی میں ملوث ہوکر مالی فائدہ حاصل کرنے کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔